آپریشن رَدُّالفَسَاد (Operation Radd-ul-Fasaad)

0



آپریشن رَدُّالفَسَاد

پاکستان آرمی نے 22 فروری 2017ء کو سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمانڈ میں آپریشن رَدُّالفَسَاد کا آغاز کیا جس میں پاکستان نیوی، پاک فضائیہ ، رینجرز ، پولیس اور دیگر خفیہ ادارے بھی پاک آرمی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ یوں کہ لیجئے کہ پاک فوج نے امن دشمنوں کے خلاف مزید زمین تنگ کرنے کی ٹھانی اور رَدُّالفَسَاد کے نام سے آپریشن شروع کیا ۔ آپریشن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ آپریشن رَدُّالفَسَاد شروع کرنے کا مقصد اب تک کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا اور دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اس کا حصہ ہے ۔ آپریشن رَدُّالفَسَاد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ ملک بھر میں غیر قانونی اسلحہ و گولہ بارود کی روک تھام کا عمل بھی آپریشن کا حصہ تاکہ ہر طرح کی برائی کا ملک سے خاتمہ کیا جاسکے ۔

اس سے پہلے پاکستان آرمی کی جانب سے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا ۔ جس میں فورسز کو بڑی کامیابیاں ملیں۔ پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی میں اکتوبر 2014 میں آپریشن خیبر-ون شروع کیا گیا جبکہ مارچ 2015 میں آپریشن خبیر-ٹو شروع کیا گیا جو علاقے سے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بعد ختم کر دیا گیا تھا ۔ جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا تھا ۔ آپریشن خیبر-فور 16جولائی2017ء کو شروع کیا گیاہے جوکہ آپریشن رَدُّالفَسَاد کا حصہ ہی ہے ۔ ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے، ہمسایہ ملک افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی روک تھام اور پاک افغان بارڈر پر دہشت گرد تنظیم داعش کے اثر رسوخ کو روکنے کے لئے پاک فوج کی جانب سے وادی شوال اور راجگال سے آپریشن خیبر 4 کا آغاز کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیم داعش کی پاکستانی علاقوں میں کارروائیوں کو روکنا اور علاقے سے داعش کا اثر رسوخ ختم کرنا ہے ۔ راجگال فاٹا میں زمینی حوالے سے سب سے مشکل علاقہ ہے۔ راجگال پارہ چنار سے 56کلومیٹر ،پشاور سے دو راستوں کے ذریعے ایک سائیڈ سے 251کلومیٹر اور دوسری سائیڈ سے168کلومیڑ جبکہ پاک افغان کی مشہور گذر گاہ اور تجارتی راستے ۔طورخم۔سے صرف42کلومیٹر دوری پر ہے ،راجگال وادی ۔وادی میدان کی پانچ وادیوں میں سے ایک ہے باقی میں میدان ،واران،باڑہ اور مستورہ شامل ہیں ان ودایوں میں ناشپاتی ،خوبانی ،زیتون ،شہتوت سمیت دیگر پھلوں کے درخت کثرت سے ہیں ،راجگال کوہ سفید(جو خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں واقع ہے) جسے مقامی زبان میں ۔سپین غز۔یعنی سفید پہاڑی جو کہ سارا سال برف کی سفید چادر اوڑھے رکھنے کی وجہ سے کوہ سفید کہلاتا ہے سے متصل ہے ،کوہ سفید او رمیدان ویلی کے شمال مشرق میں راجگال نام کی یہ وادی جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی دشوار گذار،پر پیچ اور خطرناک ہیں ،250مربع کلومیٹر رقبے پر محیط اس علاقے میں 12سے14ہزار فٹ کی بلند چوٹیاں موجود ہیں اس علاقے میں آٹھ گذر گاہیں ہیں غاریں،ندیاں ،نالے،گنے جنگلات ،گہری کھائیاں ، اورخطرناک چٹانیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں اسی وجہ سے تقریباً 500سو گھرانوں نے اس علاقہ سے نکلنے میں عافیت سمجھی ،یہ طورخم بارڈر اورقبائلی علاقوں کے سب سے بڑے شہر پارہ چنار کے درمیان افغانی بارڈر کے ساتھ ملحقہ علاقہ ہے ۔ راجگال میں آپریشن خیبر فور کے اعلان کے ساتھ ہی بزدل دشمن نے داوی نیلم کے سیکٹر اٹھمقام سے ۔کیل۔جانے والی برگیڈئیر 132۔اے کے کی جیپ پرفائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں ڈارئیور کے زخمی ہونے پر جیب بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی جس میں حوالدار محمد اقبال ،نائیک محمد اکرم سپاہی الیاس اور عبدالغفور ڈوب کر شہید ہو گئے،اس سے اگلی ہی صبح پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں قائم ایف سی کے کیمپ قلعہ بالا حصار سے ہیڈ کوارٹر جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد نے قافلے پر حملہ کر دیا ڈبل کیبن گاڑی کو حیات آباد میں ہی باغ ناران چوک میں خود کش بمبار نے نشانہ بنایااس دہشت گردی میں تربت سے تعلق رکھنے والے میجر جمال شیران سمیت 3اہلکار شہید ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں ،اسی روز افغان سرحد کے قریب چمن کے علاقہ میں دہشت گردوں ایف سی چیک پوسٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ۔اسی ماہ چمن میں عید گاہ کے علاقے ۔بوغرا ۔میں ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قلعہ عبداللہ ساجد خان مہمند کی گاڑی کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ڈی پی او سمیت دو افراد شہید جبکہ اہلکاروں سمیت11افراد زخمی ہوئے تھے،یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب فوج نے راجگال میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا ۔پاک فوج کی قربانیوں کی داستان بہت لمبی ہے مگر پر عزم اور خدادا صلاحیتوں سے بھرپور فوج پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی ۔پاک فوج نے آپریشن خیبر4میں راجگال کے علاقہ میں پہلے روز ہی دن بھر جاری رہنے والی شیلنگ سے کالعدم لشکر اسلام اور داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اس کاروائی سے8دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیاجبکہ تین عسکریتپسندوں کے زخمی ہونے بھی اطلاع ہے ،راجگال کے علاقوں پکدار،نارے نو،ستر کلے اور خیرابا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کئی گئی کاروائی میں آرمی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ 2009میں فوجی آپریشن کے ذریعے پہلے باجوڑ،سوات اور پھر مہمند ایجنسی کو کلیر کیا گیا۔2014میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب سے اب تک سارا علاقہ کلیر کیا جا چکا مگر باڈر سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے کچھ مقامات سے افغانستان کے راستے دہشت گرد داخل ہو کر راجگال میں پنا لے کر پھر آگے کاروائیاں کرتے ہیں اب آپریشن خیبر 4 کے ذریعے سرحدی حدود میں موجود دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا جائے گا جبکہ آپریشن کے لئے ائیر فورس سے بھی مدد لی جا رہی ہے ۔ تاکہ راجگال جیسے موجودہ آپریشن کا مقصد خطرناک مقامات پر ان کی کمین گاہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ کیونکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں داعش تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پارا چنار حملے میں بھی داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ داعش کا پاکستان میں باضابطہ کوئی وجود نہیں مگر باڈر پار بیٹھ کر پلان کر کے اپنے کاروندوں کو پاکستان بھیجنے کے شواہد کئی واقعات میں ملے ہیں اور پھر افغانستان میں افغان فورسز اور حکام کا کنٹرول کم ہو رہا ہے، افغانستان میں صورت حال کی بہتری کے لئے حکومت کو اپنا کنٹرول قائم کرنا ہو گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنا باڈر سسٹم مزید بہتر بنانا پڑرہا ہے ۔ باڈر سسٹم بہتر بنانا ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے لازمی ہے ۔ دوسرے ممالک نے بھی اپنی ضرورت کے مطابق اپنا باڈر سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ بہتر بنایا ہے ۔ جیسا کہ سعودی عرب اور عراق دونوں مسلم ملک ہیں اور سرحدیں بھی ملتی ہیں مگر سعودیہ نے اپنا باڈر سسٹم بہتر بنایا ہے ۔ اسی طرح امریکہ اور ماسکو وغیرہ کئی ممالک نے اپنا باڈر سسٹم بہتر بنایا ہے جیسا کہ اگر صرف سعودی عرب کی مثال عرض کروں تو سعودی عرب تو شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ انکی سرحدیں ساتھ ساتھ ہیں مگر پھر بھی ایک منظم اور مضبوط باڈر سسٹم ہے ویسا ہی پاکستان چاہتا ہے تاکہ کوئی بھی بغیر شناخت کے ادھر ادھر نہ ہوسکے ۔ جو بھی ہو ملکی سلامتی کی صورتحال سے بڑھ کر نہیں ہے ۔ خیر افغانستان اور پاکستان باڈر سسٹم کے بار میں پھر کبھی ذکر کروں گا ابھی واپس موضوع پر آتا ہوں کہ

آپریشن رد الفساد 22 فروری کو شروع ہوا جس کے تحت اب تک 46 بڑے آپریشن جبکہ خفیہ بنیادوں پر 9 ہزار آپریشن کئے جا چکے ہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 1760 جوائنٹ چیک پوسٹس بھی بنائی گئی ہیں ۔۔ ردالفساد میں سندھ میں 522 دہشٹ گردوں نے سرنڈر کیا۔ پنجاب میں رد الفساد کے تحت کارروائیوں میں 22دہشت گرد مارے گئ ۔ آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک میں 85 فیصد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔


دہشت گردی کے خلاف جنرل باجوہ کا یہ قدم ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم قردارادا کرے گا اور اس فیصلے پر پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑی ہے۔ عوام شرپسندوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کا خیرمقدم کرتی دعا کرتی ہے کہ ملک سے دہشت گردی جیسے ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔


جس فساد کو ختم کرنے کے لئے آپریشن ”ردالفساد“ شروع کیا گیا ہے یہ گزشتہ تیس برس سے اس خطے میں پھیل رہا تھا ۔ گزشتہ تیس برس میں پاکستان مسلسل اس بحران کی لپیٹ میں ہے جو افغانستان سے شروع ہوا تھا۔ جب ہم فساد کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو عام طور پر فتنہ و فساد کی ترکیب استعما ل کرتے ہیں، اسلام میں فتنہ کو قتل سے بڑھ کر قبیح جرم قرار دیا گیاے۔ مگر یہاں تو فساد بھی جاری ہے ا ور قتل و غارت گری کا کھیل بھی عروج پر ہے، اسے کچلنے کے لئے فوج کی طاقت کو استعمال کئے بغیر چارہ نہیں ۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے دنیا کی مختلف قوموں کو برسوں لگ گئے ہیں۔ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے، دنیا کے سارے مذاہب میں احترامِ نفس کا یہ اصول موجود ہے ۔ حادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس قسم کے ارشادات وبیانات سے بھرا ہوا ہے، جس کے اندر ناحق خون بہانے کو گناہِ عظیم اور بدترین جرم بتایا گیا ہے، جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”الکبائرُ الاشراکُ باللّٰہِ وقتلُ النَفْسِ وعقوقُ الوالدینِ والیَمِیْنُ الغَمُوسُ“ (مشکوٰة:
۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق) ترجمہ: بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔
اسی طرح ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ (الفرقان:
۶۸) ”یعنی انسانی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے،اس کو ناحق قتل مت کرو؛ مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے“
غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ بھی کہا گیا، ایسے ہی ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْساً فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ اس کے ساتھ ﴿بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِیْ الْاَرْضِ﴾ بھی کہا گیا، یہ نہیں کہ کسی بھی جان کو کسی بھی حال میں قتل مت کرو، اگر ایسا کہا جاتا ، تو یہ عدل کے بالکل خلاف ہی نہیں؛ بلکہ حقیقی ظلم ہوتا، دنیا کو اصل ضرورت اس بات کی نہ تھی کہ انسان کو قانونی گرفت سے بالکل آزاد کردیاجائے کہ جتنا چاہے، جہاں چاہے، جب چاہے فساد برپا کرے، جس قدر چاہے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، جس کو چاہے اور جب چاہے بے آبرو کرکے اس کی عزت وآبرو کا جنازہ نکال دے اور ان تمام کے باوجود اس کی جان محترم ہی رہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیامیں امن وامان کی خوش گوار فضا قائم کی جائے اور ایک ایسا منظم دستورالعمل تیار کیاجائے، جس کے تحت ہر فرد اپنی حدود میں آزاد رہے اور کوئی شخص اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے، اس غرض کے لیے ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ کی محافظ قوت درکار تھی ورنہ امن کی جگہ بدامنی ہوتی۔ جب کوئی جماعت سرکشی پر اتر آتی ہے، تو وہ کوئی ایک فتنہ نہیں ہوتا، جو وہ برپا کرتی ہو؛ بلکہ ان میں طرح طرح کے شیطان صفت انسان بھی شامل ہوتے ہیں اور ہزاروں طرح کے فتنے ان کی بدولت وجود پذیر ہوتے ہیں، ان شیطانوں میں سے تو بعض طمع وحرص کے پجاری ہوتے ہیں جو غریب قوموں پرڈاکہ ڈالتے ہیں اور ان کے خون پسینہ سے کمائے ہوئے روپیوں پیسوں کو اپنی عیارانہ چالوں سے لوٹتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، عدل وانصاف کو مٹاکر جور وجفا کے علَم کو بلند کرتے ہیں، ان کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں، تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے، اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سے صفحہٴ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان کی امت بن کر اولادِ آدم پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اورانسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، جن کے ساتھ اصلی ہمدردی یہی ہے کہ ان کو صفحہٴ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے۔ داعش اور دہشت گرد زمیں پر فسادی ہیں بے گناہ انسانیت کا قتل کرتے ہیں لہذا انکے خلاف جہاد لازمی ہے تاکہ مسلمان بھائیوں کا مال و جان اور عورتوں کی عزتیں محفوظ رہیں ۔۔ پاک فوج مسلمانوں کی حفاظت کے لیے یہ آپریشن کر رہی ہے تاکہ فسادیوں کو ختم کرکے ملک میں امن قائم کیا جاسکے بے گناہ معصوم شہریوں کا خون کوئی فسادی نہ بہا سکے ۔۔ اور جو اس آپریشن پر طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں اس کا مطلب وہ ان آیات پر سوال اٹھاتے ہیں جن میں بے گناہوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے فسادیوں کو ختم کرنے کا حکم ہے ۔۔ جیسا کہ

جنگ کی اسی مصلحت کو ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ: ﴿وَلَوْلاَ دَفَعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ (البقرہ:
۲۵۱) ترجمہ: ”اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا، تو زمین فساد سے بھر جاتی؛ مگر دنیا والوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔“ (کہ وہ دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)
ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ

یہی فساد وبدامنی ظلم وجبر کی جنگ ہے، جس کو دفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو تلوار اٹھانے کا حکم دیا ہے؛ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتِلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ
o الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلاَّ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ﴾ (الحج:۳۹-۴۰) ”جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقینا قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتے تھے“ اس کے اندر جن لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، ان کا جرم یہ نہیں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ ایک دوسرے مذہب کے پیروکار ہیں؛ بلکہ ان کا جرم واضح انداز میں یہ بیان کیاجارہا ہے کہ وہ ظلم کرتے ہیں، لوگوں کو بے قصور ان کے گھروں سے نکالتے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف صرف مدافعتی جنگ کا حکم نہیں دیاگیا؛ بلکہ دوسرے مظلوموں کی اعانت کا بھی حکم دیاگیا اور تاکید کی گئی کہ کمزور و بے بس لوگو کو ظالموں کے پنجوں سے چھڑاؤ۔ اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے کہ


اگر دشمن ملک پر چڑھ آئے تو اپنی قلت اور دشمن کی کثرت نہ دیکھو۔ قلیل فوجیں کثیر افواج پر غالب آتی ہیں۔ (سورہ انفال 49)

۔
سپاہ سالار کی سربراہی میں آپریشن ردالفساد پاکستان کی تاریخ کو سب سے بڑا آپریشن کا جسکا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ضرب عضب سے بڑا آپریشن ہے اور پورے پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے یہ شروع کیا گیا جس میں بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، ہماری افواج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے سیکڑوں جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا اس کے ساتھ عوام نے بھی اس کو برداشت کیا ہے، لاتعداد گودیں اجڑی ہیں اور کئی سروں کے تاج سلامت نہ رہے لیکن پاکستان کے پرعزم عوام نے اس کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اس بھروسے پر کہ بالآخر ایک دن اس ناسور کا خاتمہ ہو کررہے گا۔ فسادیوں کا خاتمہ اس آپریشن کا طرہ امتیاز ہے اور دشمن کی ناپاک سازشوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ فسادیوں اور شرپسندوں کے خلاف جہاد ہم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور ایک قوم بن کر اس مشکل وقت میں ان سے نبرد آزما ہونا ہماری امن و سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک محفوظ پاکستان ہی ترقی کر سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم اپنا آج قربان کر کے ایک مستحکم معاشرے اور ملک کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ۔ ردالفساد آپریشن کے ذریعہ دہشت گردوں کی طرف سے پھیلائے گئے فساد کے خاتمے کے لئے پوری قوم کو کردارادا کرنا ہوگا محض فوج اور سیکیورٹی اداروں پر ذمہ داری ڈال کر حسب معمول معاملات زندگی کو چلانا ممکن نہیں ہوگا ۔ سپاہ سالار کے مطابق ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے ۔۔ ہم مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اس وقت ختم ہو گی جب پاکستان جیت جائے گا ۔۔ پاکستانی فوج کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح حکمت عملی ہے ۔۔ دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں پاک فوج سمیت پوری قوم ایک پیج پر ہے۔ دہشت گردی کے خطرات کمزور پڑنے سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے نہ صرف ملکی سرمایہ کار بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب ہو رہا ہے ۔۔
جب قوم متحد اور پرعزم ہو تو بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دینا ممکن ہے۔ بس ہمیں اتحاد اور محبت کے ساتھ پاکستان کی تعمیر کرنی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انکی قدر کرنی ہے اور انکی لاج رکھنی ہے اور دشمن کو اپنی صفوں میں نہیں داخل ہونے دینا انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان پرامن ممالک کی نمائیندگی کرے گا ۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے جو ہمارے محفوظ کل کے لیے اپنا آج قربان کررہے ہیں، پاک فوج کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں وہ دن دور نہیں جب ملک بھر سے امن کا سورج طلوع ہوگا۔ پوری قوم کو پاک فوج کی بہادر قیادت پر فخر ہے ۔ہماری اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ پاکستان سے جلد دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہو،تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔




یوم تکبیر

1



یوم تکبیر


پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے۔ اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ قوم کی بے چینی، اضطرابی ،ہاراورجیت،زندگی اور موت کی کشمکش نے دم توڑا ۔ سورج ڈھلنے سے پہلے دنیا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں کو پیلے زرد رنگوں میں نکھرتے ،بکھرتے اور اُڑتے دیکھ رہی تھی اور فضاتکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی تھی ۔۔
28مئی یوم تکبیرکے طور پر پاکستان میں منایا جاتا ہے اور 14اگست 1947ء کے بعد یہ دوسرا قومی دن ہے کیونکہ 14اگست کو پاکستان بنا تھا اور 28مئی کوپاکستان نے اپنی بقا کی جنگ جیتی تھی۔یہ دونوں دن پاکستان کے سب سے تاریخی اور اہمیت کے حامل ہیں۔ جس ے پاکستان بنا یااس کے بانی قائد اعظم ہیں اور اس تاریخ ساز دن کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں ۔۔ امریکہ اور دیگر بڑے ممالک نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بڑی کوشش کی مگر انھیں پتا نہیں ہے کہ جب غیرت اور عزت کی بات آئے تو پاکستان کو خریدا نہیں جا سکتا ۔ 28 مئی 1998 کے روز سہ پہر 3بج کر16 منٹ پر چاغی میں ایک بٹن دبا کر پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا ۔۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنانے کا یہ دلیرانہ قدم اْٹھا کر مسلم ممالک کو بھی راہ دکھائی کہ وہ بھی ایک تاریخ ساز قدم اْٹھا کر دنیا میں فخر سے سر بلند کر لیں۔ یہ پاکستانی قوم کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کودشمنِ وطن کے سامنے سپر پاوربنادیا ۔ ۔پاکستان میں امریکی وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات منوا لی مگر پاک افواج نے نوازشریف کی ایک نہ سنی اور دھماکے کر کے کہا کہ اب چاہو تو اپنا سیاسی مستقبل بنا لو اور چاہو تو ہم قوم کواگاہ رکردیتے ہیں کہ دھماکوں میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں ۔۔ مجبوراََ نواز شریف کو بیان دینا پڑا ۔۔ یہی بات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’فیصلہ عوام کا‘‘ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔
آج جب پاکستان میں یوم تکبیرکے دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے مگرعوام کو یہ دن مناتے ہوئے کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ کے آگے جھکنے پر مجبورہیں ۔ امریکہ کھلم کھلا ہمارے قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔۔ یہی بات ہے کہ ہمارے حکمران سیاست دان صرف اور صرف پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں انھیں پاک افواج کا ڈر نہ ہوتا تو یہ ابتک پاکستان کو بیچ کر کھا چکے ہوتے ۔۔۔

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ” اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے” (سورۃ انفال )اللہ تعالی کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ایٹمی ملک بننے کا فیصلہ کیا جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اس وقت پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارت نے 11مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کردیئے تھے ۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کر دی تھی۔ اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا۔ایسا کیوں نا ہوتا ؟ بھارت نے چند دن قبل ایک ساتھ 5 ایٹمی دھماکے کیے تھے ،اور پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بنا ۔اس وجہ سے اس نے ہر محاذ پر پاکستان کو دبانا شروع کر دیا ۔ نواز شریف بھی پریشان تھے کہ کیا کریں قوم کو کیا جواب دیں اسی اثنا میں پاک افواج نے وہ کر دیکھایا کہ جس سے دنیا میں پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ۔۔


اس عظیم کارنامے کا سہرا سب سے بڑھ کر پاکستانی عوام ،ذولفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ڈاکٹر ثمرمبارک مند اور ان کے سینکڑوں دیگر ساتھیوں کو جاتا ہے ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو پاکستان پر امریکہ نے پابندی لگا دی کیونکہ پاکستان نے مسلم ملک ہو کر اتنی ہمت کیسے کی کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کر لی ۔پاکستان کے دشمنوں کے ہاں اس دن صف ماتم بچھی ہوئی تھی، دوسری طرف مسلم ممالک خوشیوں سے نہال تھے ۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہی حال دیگر مسلم ممالک کا تھا ۔ایٹم بم بنانے میں بھی مسلم ممالک نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔

’’اگر ہندوستان ایٹم بم بناتا ہے تو ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے رہ لیں گے لیکن اپنا ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘‘
یہ تاریخی الفاظ اس وقت کے وزیر خارجہ، جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں مانچسٹر گارجیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔ اگرچہ قیام پاکستان کے فوراً بعد دوسرے درپیش مسائل کے پیش نظر کسی کو اس طرف دھیان دینے کا موقع نہ ملا، لیکن بھارت 1954ء سے ہی ’’ہومی بھابھا‘‘ کی سربراہی میں اپنا نیوکلیائی تحقیقی پروگرام شروع کرچکا تھا۔ 1954ء میں اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم، مشہور زمانہ ایٹمی سائنسدان نیلز بوہر سے ملنے کوپن ہیگن بھی گئے۔ جناب ذولفقار علی بھٹو نے 1966ء میں تجدید اسلحہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے ایٹم بم بنا لیا تو چاہے ہمیں گھاس کھانا پڑے ، ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے، ایٹم بم بنانے کے لیے ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ کا چارج، انہوں نے 31 دسمبر 1971ء کو خود سنبھالا ۔ فرانس سے ری پراسیسنگ پلانٹ کی خرید کے معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ 300 ملین ڈالر کے اس منصوبے کے لئے سرمائے کا حصول تھا۔ لیبیا‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت اور عراق وغیرہ نے بھرپور مالی تعاون کیا ۔جس کی بدولت پاکستان ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے قابل ہوا ۔


پاکستان 1986ء تک ا یٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، 11مئی8 199ء کو بھارت نے راجستھان کے صحرا پوکھران میں ایک بار پھر 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں امن کے تواز ن کو بگاڑ دیا، اس کے کئی دن بعد تک جب پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو عالمی سطح پر یہ تاثر جنم لینے لگا کہ پاکستان کے پاس شائد ایٹم بم ہے ہی نہیں ،یہاں تک کے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی کھو کھلی دھمکیاں سب کے سامنے آچکی ہیں ،پاکستان کے پاس نہ کوئی ایٹم بم ہے اور نہ کوئی دھماکہ کرے گا ۔لیکن دوسری طرف حکومت میں موجود کچھ لوگوں کاخیال تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دئیے تو عالمی برادری پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جس کے ملکی معیشت پر بہت برے اثرات پڑیں گے،اس کے علاوہ امریکا بھی پاکستان پر کافی دباؤ ڈالے ہوئے تھا اور پاکستان کی حکومت کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ لالچ بھی دے رہا تھا ۔ ۔


پاکستان کے کامیاب جوہری تجربات کے بعد پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلندیوں کو چھونے لگا ،ان تجربات نے ارض وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیااور بھارتی حکمرانوں کا اکھنڈ بھارت کا خواب ہمیشہ کیلئے چکنا چور کر دیا جو اپنے ایٹمی دھماکوں کے بعد اپنی اوقات سے بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہا تھا اور کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا ، پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف بھارت کا غرور مٹی میں ملا دیا بلکہ بھارت کو یہ باور بھی کروا دیا کے ہم سو نہیں رہے ہم ارض وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔۔

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے اس وقت بھارت میں بی جی پی کی حکومت تھی ۔۔ BJP کا شکریہ کا اس نے پاکستان کی اس طرف توجہ دلائی کہ اب پاکستان کو ایٹمی پاور بن کر ابھرنا چاہیے ۔۔ اور پاکستان نے بھی اسلئیے ایٹم بم بنائے کہ ایٹم بم کسی بھی جنگ سے بچنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔۔ پاکستان نے ایٹمی اثاثے محفوظ کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے ۔۔ تاکہ بھارت کی طرح پاکستان کے ایٹم کا کوئی غلط استعمال نہ کرسکے ۔۔ جبکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے ۔۔

قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب ایک صحیح فیصلہ اس کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی وقت پاکستان کی تاریخ میں بھی 28 مئی 1998ء کو آیا جب ایک صحیح اور بروقت فیصلہ نے ایک ایسا معجزہ کردکھایا کہ دنیا حیران و ششدر رہ گئی ۔۔ ہر سال 28مئی کو چاغی میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں کی یاد میں ملک بھر میں ’’یوم تکبیر‘‘ منایا جاتا ہے اور تقریبات، جلسوں اور جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے یہ ایٹمی دھماکے اس وقت کیے جب اٹل بہاری واجپائی نے اپنی انتخابی مہم میں برملا اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ برسر اقتدار آنے کے بعد اکھنڈ بھارت بنانے کے لئے ہر حربہ اختیار کرینگے اور ایٹم بم گرانے پڑا تو بھی گریز نہیں کرینگے۔
واجپائی نے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے جارحانہ عزائم کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا اور 11مئی 1998 کو تین اور 13 مئی کو مزید دو دھماکے کرکے پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اپنے جارحانہ عزائم کو کسی بھی وقت عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کی یہ جارحیت پاکستان کی سالمیت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ پوری قوم کی یہ تمنا تھی کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے۔ چنانچہ پاکستانی سائنسدانوں نے عسکری اور سیاسی قیادت کے فیصلے پر چاغی کے مقام پر 28 مئی 1998 کو پانچ اور 30 مئی کو کھاران میں ایک وسیع صحرائی وادی میں پانچ ایٹمی دھماکا کرکے بھارت کی جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ایسے مواقع نظر سے گزرتے ہیں جن پر اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو انڈیا پاکستان کو کھا چکا ہوتا۔ قارئین کو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ سری لنکا ہو یا بنگلہ دیش، نیپال ہو یا بھوٹان حتیٰ کہ مالدیپ ان سب کو بھارت نے ایٹمی قوت بن کر اپنی طفیلی ریاستیں اس حد تک بنا رکھا ہے کہ بنگلہ دیش جیسا مسلمان ملک پاکستان اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنے کا اعلان کرکے بھارتی آنکھ کے اشارے پر یہ اعلان واپس لے لیتا ہے۔


جب سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن قائم ہوا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان ایٹمی بموں کی تعداد اور کوالٹی میں بھارت پر برتری اور پاکستان کے میزائلوں کے سو فیصد ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت نے بھارت کے مقابلے میں وطن عزیز کو محفوظ بنادیا ہے اور اس حد تک محفوظ بنادیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرسکے گا۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، کسی کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، پھر بھی اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے اسے بار بار جنگیں لڑنا پڑیں۔ پاکستان اپنے زیادہ سے زیادہ وسائل عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں خوراک، تعلیم اور علاج و معالجے سمیت زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر صرف کرنے کا شدت سے آرزو مند ہے مگر دہشتگردی اور بیرونی جارحیت کے خطرات کی موجودگی میں اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتا۔ مختلف اسباب کی بناء پر اس کی سلامتی کے لئے خطرات آج بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ آج بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی جدوجہد کررہا ہے۔

ایٹم بم کی تیاری کے ابتدائی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت حالات انتہائی نامساعد تھے کیونکہ اس قسم کے کام کی تعلیم اور ٹریننگ نہ تو کسی کالج اور یونیورسٹی میں دی جاتی ہے اور نہ ہی اس موضوع تک اسکے انتہائی خفیہ ہونے کی وجہ سے رسائی ممکن ہے۔
آج کل تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے جس سے کام کا کچھ نہ کچھ آئیڈیا ہوجاتا ہے لیکن آج سے اکتالیس سال پہلے یہ چیزیں دسترس سے باہر تھیں، حتیٰ کہ ایک تو فوٹو کاپی مشین تک نہیں تھی، ایک ٹوٹی پھوٹی فورڈ ویگن ٹرانسپورٹ تھی اور ایک تاریک اور بدبو دار کمرہ لیبارٹری تھا جس میں بیٹھنے کے لئے چار کرسیاں بھی پوری نہیں ہوتی تھیں۔
یہاں پر بیٹھ کر ایٹمی سائنسدانوں نے ایٹم بم بنایا تھا۔ لوگوں کو پاکستان اور اسکے ایٹم بم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کتنے مشکل حالات میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا ۔۔ پاکستان ایک پر ملک ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے ۔ پاکستان کا نیوکلئیر سسٹم مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔۔ پاکستان کو ایٹمی پاوربننے میں بلوچستان کی سرزمین کو وہ اعزاز حاسل ہے وہ کسی اور صوبے کی سرزمین کو حاصل نہیں ۔ 28مئی 1998پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے دھنک کی طرح رنگ بدلتے چاغی کے پہاڑنے ملت اسلامیہ نئی صُبح دی بلکہ بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے کی وارئنگ بھی دی ۔۔ گزشتہ برس پاکستان کے یورینیم نیوکلئیر چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا نیوکلئیر سسٹم غیر محفوظ جو نیوکلئیر جیسی قوت کو سمبھالنے سے قاصر ہے ۔ وہ دوسروں کی سلامتی کا کیا سبب بنے گا ۔۔


آج پاکستان کواٹیمی قوت بنے 19 سال کاعرصہ ہوگیاہے ۔ لیکن وہ معاشی میدان میں کوئی کارنامہ سر انجام نہ دے سکا ہے۔ بے روزگاری ،غربت،نا انصافی،کرپشن اس طرح کے سینکڑوں مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ہمارے لیڈر ایسے ہیں جوکہ صرف اپنے فائدے کی بات کی کرتے ہیں ۔پاکستان ابھی تک ترقی پذیر کیوں ہے؟ بجلی بحران اور دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا ؟ عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے ۔ پاکستانی عوام غفلت کی گہری نیندسوئی ہوئی ہے کہا جاتا ہے کہ ایک منظم سازش کے ساتھ ان کے مخالفین ان کو ایسی گولیاں دیتے رہتے ہیں جس سے یہ سوئی رہتی ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عوام کوجب تک لیڈراچھانہیں ملتا ہم ایک قوم نہیں بن سکتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں عوام ابھی بے شعور ہے اسے اچھے لیڈر کی پہچان نہیں ہے ۔اور دوسری بات یہ کہ دشمن کا کام سازش کرنا ہی ہوتا ہے اس پر سازش کا الزام لگانے کی بجائے اس سازش پر عمل کیوں کرتے ہیں ۔ جس مقصد کو سامنے رکھ کر عوام نے قربانیاں دیں تھیں ان میں سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوا ۔ ہماری شہ رگ کشمیر دشمن کے قبضے میں ہے, بھیک پر گزارہ ہے ،انصاف بکتا ہے, اپنی زبان تک ذہنی غلامی کی وجہ سے رائج نہ کر سکے ۔بجلی ایٹمی پاور سے پیدا نہ کر سکے ۔ یوم تکبیر صرف خوشی منانے تک رہ گیا ہے, اس ایٹمی پاور سے پاکستان بجلی کے مسائل کو حل کر سکتا ہے پھر بھی ایک عام آدمی تمام بنیادی ضروریات سے آج بھی محروم ہے اور جو نہیں ہے اسکو محروم کیا جا رہا ہے ۔ کوئی بھی دن منانے کا ایک بڑا مقصد ہوتا ہے اور یہ مقصد ہمارے عہد کو دوبارہ سے زندہ کرتاہوتا ہے ۔تجدید عہد کا دن ہوتا ہے ۔ یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ وہ یادگار لمحہ تھا جب دنیا کے تقر یباً 2ارب مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ۔

یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا‘ ان میں روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی سرفہرست ہیں اور یہ بات تاریخی شواہد کی بنیاد پر واشگاف الفاظ میں کہی جاسکتی ہے کہ اگر جناب مجید نظامی اس معاملے میں حکومت وقت سے قومی سربلندی کی خاطر ٹکرا جانے والی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ بعض بڑے بڑے حاشیہ نشین اور چاپلوس صحافیوں کی ایک کھیپ مخصوص مفادات کے تحت پاکستان کی ذمہ دار قیادت کو ایٹمی دھماکے کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی مگر یہ مجید نظامی صاحب ہی تھے کہ جنہوں نے اس حوالے سے نوائے وقت کی جاری کردہ استحکام پاکستان تحریک کو نقطہ کمال عروج تک پہنچا دیا۔

نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے صحافی برادری کی نوازشریف سے ملاقات میں قومی امنگوں کی ترجمانی کی۔ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب! آپ ایٹمی دھماکہ کرو ادیںورنہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔ جناب مجید نظامی نے یہ بھی کہا کہ آپ ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو دوہری وارننگ کا سامنا ہے۔ اگر دھماکہ کرتے ہیں تو ممکن ہے امریکہ آپ کا دھماکہ کر دے مگر قومی اور ملکی سالمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ایٹمی دھماکہ کریں۔ ادھر افواج پاکستان بھی نواز شریف پر دباو تھا کہ دھماکہ کردیں مگر نواز جب نہیں مانے تو افواج نے ملک کی بقائ کا فیصلہ کرتے ہوئے دھماکہ کیا خیر اندر کی باتیں باہر بتانے کا میرا کوئی مقصد نہیں تھا مگر جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف صاحب کی وجہ سے پاکستان ایٹمی ملک بنا بس انھیں بتانے کی غرض تھی تا کہ قوم اپنے حقیقی محسن کو پہچانے اور فریب دینے والے کو دوبارہ تخت نشین نہیں تخت دار پر لٹکائے ۔خیر۔ 28 مئی 1998 ء کا دن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے باعث فخر دن تھاجب اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کے ممالک کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔ پاکستان سمیت ترکی ،سعود ی عرب ، مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک ، افریقی مسلم ممالک ، انڈونیشیا حتیٰ کہ سوویت یونین سے الگ ہو کر آزاد مسلم ریاستوں کے لوگ بڑی آن شان سے یہی کہتے تھے کہ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ایسا ہی ہے جسے ہم خود ایٹمی قوت بن گئے ہیں، کیونکہ مسلمان عقیدے کے اعتبار سے ’’جسد واحد‘‘ ہیں۔ پاکستان نے اپنے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو 5دھماکوں کا جواب دے دیا تھا اور اب اسی لئے تو پاکستان کے دشمنوں کے ہاں ماتم بپا تھا۔ پاکستان پر امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں کہ تمہاری اتنی جرأت…؟ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ کسی کی یہ مجال اور وہ بھی کسی مسلمان کی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ خود کو ایٹمی قوت بنا اور کہلا سکے۔ ’’گستاخ‘‘ پر حد ادب لگ چکی تھی لیکن دوسری طرف عالم اسلام خوشیوں سے نہال تھا۔ ملت اسلامیہ پاکستان کا ہر طبقہ سجدۂ شکر ، نوافل اور ملی جذبات کا اظہار کر رہاتھا تو مشرقی بارڈر پر بھارت اور بھارتی فوج کے اوسان خطا ہو گئے۔ امریکہ بھی پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کو برداشت نہ کر سکا اور فوراً ہی پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی ، یورپی، بھارتی چینلوں نے پاکستان کے ایٹمی دھماکے کو اسلامی بم قرار دے دیا، حالانکہ پاکستان نے تو پہلے 6 ملکوں کے بعد ایٹمی دھماکے کئے ان چھ ممالک میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو کسی نے نہیں کہاکہ یہ عیسائی ایٹم بم ، روس کا کمیونزم بم ، اسرائیل کا یہودی بم ، بھارت کا ہندو بم ہیں، لیکن جب پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور ُ پر امن مقاصد کے لئے ایٹمی دھماکہ کیا تو اس کے ایٹم بم کو اسلامی بم قرار دے کر غیر مسلم سازش کر رہے تھے اور مسلمان سجدہ شکر ۔۔

امریکہ نے جاپان میں ہیروشیما، ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں جاپانیوں کو لقمۂ اجل بنا دیا اور آج وہ انسانی حقوق کا چمپئن بناہواہے، حالانکہ حقیقت میں انسانیت کا قاتل اور شیطانی حقوق کا چمپئن ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھاہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھاہے اور سیاچن پر بھی ناجائز تسلط جمائے ہوئے ہے۔ پوری دنیا میں امریکہ ، اسرائیل ، بھارت، روس اور یورپی ممالک نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کررکھاہے۔ مسلمان ممالک کی آزادی ، خود مختاری ، قومی سلامتی پر ہر طرح سے حملہ آور ہیں۔ افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے غاصبانہ قبضہ کیا اور کہتے ہیں کہ ہم تو افغانستان میں امن و استحکام کے لئے آئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں’’ نالے چور نالے چتر ‘‘۔ قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ دیا گیا، مگر پاکستانیوں نے کسی بے گناہ پر ظلم نہیں کیا صرف دفاع کیا ہے ۔۔ ماضی کی تلخیاں بھلا کر ہمیں پھر سے ایک ہو جاناچاہیے، ہمیں اس پاک سرزمین پر پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا۔ پاکستان کی بری ، بحری ، فضائی افواج نے پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جانوں کے نذرانے اس لئے پیش نہیں کیے تھے کہ یہاں بھارت کی بالادستی کے قصیدے سنائے جائیں۔ اسے بڑا ملک قرار دے کر ہمارے اوپر رعب جمایا جائے۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام ُ پرامن ، پاکستان سمیت دنیا کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ امریکہ بھارت انسانیت کے قاتل ہیں۔ پوری قوم 28مئی کو یوم تکبیر پر مساجد میں خصوصی نوافل میں ملکی سلامتی کے لئے دعائیں اور اپنے عسکری اداروں سے والہانہ محبت ، شہدا کے مزاروں پر فاتحہ خوانی اور قومی پرچم سے لبریز ریلیوں کا انعقاد کریں ۔ آج کے دن ہمارے سیاستدانوں کوبھی یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے ہر اقدام اٹھائیں گے ۔ پاکستان پائندہ باد ، افواج پاکستان اور اس کا ایٹمی پروگرام زندہ باد !!۔۔۔ قوم 28مئی کو یوم تکبیر کے طور پر منائے گی اورپاکستان کے دشمن یوم تکلیف کے طور پر کڑھتے رہیں گے۔ پاکستان کا دشمن ہی بے نام و نشان ہوگا ۔ انشاءاللہ !!

کلبھوشن یادو اور عالمی عدالت انصاف

0


کلبھوشن یادو اور عالمی عدالت انصاف

بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کے سینئر اہلکار بھارتی بحریہ کے حاظر سروس افیسر کمانڈر کلبھوشن یادو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے مارچ 2016 میں گرفتار ہوا ۔ اس سے قبل 10 جون 2015 کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی پارلیمان کے فلور پہ ببانگ دہل اعتراف کیا تھا کہ1971 میں انہوں نے بذات خود بنگالی گوریلا تنظیم مکتی باہینی جس کی تربیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے کی تھی کے شانہ بشانہ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس اعتراف کے بعد نریندرمودی نے بھارت کے قومی دن کے موقع پہ دہلی کے لال قلعہ کی فصیل پہ کھڑے ہو کر پاکستان کو للکارا تھا کہ بھارت بلوچستان، گلگت ، بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کو آزادی دلاکر رہے گا۔

ان اعترافات کے بعد کمانڈر کلبھوشن یادو کی گرفتاری نے بھارت کی گھنائونی سازش کا پر دہ فاش کردیا۔ کمانڈرکلبھوشن یادو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ بھی تھا ۔یادو نے حکومت پاکستان کے مقرر کردہ مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ اسے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کراچی میں انتشارپھیلانے کی خاطر پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔ یادو نے بتایا کہ کراچی میں صفورا گوٹھ میں بس دھما کے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ داعش نے اس ہو لناک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں45معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔ یادو نے بلوچستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس نے بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرکے بغاوت پہ اکسایا، انہیں گوریلا جنگ اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دینے کے علاوہ اسلحہ، بارود اور رقم فراہم کی۔ یادو نے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں ڈیرہ جمایا ہوا تھا جہاں سے وہ سرحد پار کرکے پاکستان میں تخریب کاری کے جال کووسعت دے رہا تھا۔کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد ایک برس تک پاکستان نے اس کے خلاف تمام ثبوت اکھٹا کرکے اس پہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلایا۔ پاکستان آرمی ایکٹ1952 کے تحت کمانڈر یادوکو اپنے دفاع کے لئے وکیل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ماہ کے مقدمہ کی سماعت کے بعد فاضل عدالت نے کمانڈر یادو کو جاسوسی ،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش اور چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کے الزامات میں ان تمام جرائم کا مرتکب پایا اور انہیں سزائے موت سنائی۔ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کو سزائے موت سنانے کے بعد پورے بھارت میں کہرام مچ گیا۔ بھارتی میڈیا نے اشتعال انگیز پروگرام نشر کرنا شروع کئے جبکہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشز عبداالباسط کو بھارت کی وزارت خارجہ نے دھمکی دی کہ اگر کلبھوشن یادو کی سزائے موت پہ عمل درآمد ہوتا ہے تو پاکستان کو ہولناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔عبدالباسط نے بھارتی وزارت خارجہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ’’ آپ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی خاطر جاسوس اور دہشت گرد روانہ کرتے ہیں۔ہم انہیں گرفتارکرکے مقدمہ سناتے ہیں تو آپ اعتراض کرتے ہیں‘‘۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پاکستان کی سرزمین سے گرفتار ہوئے، کچھ کو سزائے موت سنائی گئی اور کچھ کو لمبی قید لیکن بھارت نے کبھی اتنا واویلا نہیں مچایا تھا جتنا کمانڈر یادو کی سزائے موت پہ مچایا جارہاہے۔ راء کی جانب سے پاکستان بھیجے گئے جاسوس سربجیت سنگھ کو گرفتار کرکے دو دہشت گرد حملوں میں ملوث پایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی35برس قید کاٹنے کے بعد سر بجیت سنگھ کو جیل میں ہنگاموں کے دوران زخمی کردیا گیا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر سربجیت چل بسا۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ نے بدلہ لینے کی خاطر بھارت کے جیل میں قید ایک پاکستانی قیدی کو ذدوکوب کرکے ہلاک کرڈالا۔
کشمیر سنگھ بھی راء کا جاسوس تھا جسے پاکستان سے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ کشمیر سنگھ35برس تک پاکستان میں قیدرہا جسکے دوران وہ انکار کرتا رہا کہ وہ بھارتی جاسوس ہے۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کشمیر سنگھ کی رحم کی اپیل کے جواب میں اسے رہا کردیا لیکن بھارت کی سرحد میں قدم رکھتے ہی کشمیر سنگھ نے پاکستان کا منہ چڑایا کہ وہ راء کا ایجنٹ تھا اور بھارت کی خاطر پاکستان کے خلاف جاسوسی کرتا رہا۔
رویندا کو شک بنی احمد شاکر کے روپ میں پاک فوج میں شامل ہوا اور میجر کے رتبے پہ پہنچا جسکے دوران وہ پاکستان کے حساس مقامات سے متعلق تفصیلات بھارت کو ارسال کرتا رہا۔ وہ اس وقت گرفتار ہوا جب ایک اور بھارتی جاسوس نے پاکستان میں گرفتاری کے بعد اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ رام راج، سرجیت سنگھ ، گربخش رام، ونود ساتھی، شیخ شمیم چند ایسے نام ہیں جو راء کے بھیجے ہوئے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان میں گرفتار کئے گئے اور سزا کے مرتکب ٹھہرے۔

بھارت لاکھ شور مچائے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو پہلی مرتبہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا ثبوت حاصل ہوا ہے اور بھارت کو ناکوںچنے چبوانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا اور کمانڈر کلبھوشن یادو کو تختہ ء دار پہ لٹکا کر پاکستان کے دشمنوں کو واضح سبق دینا ہوگا کہ اگر کوئی پاکستان کی سا لمیت کو ٹھیس پہنچائے گا تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گئی۔

عالمی عدالت میں جانا مودی سرکار کی سب سے بڑی غلطی ہے ۔ پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت کو بتا چکا ہے کہ اس کے دفاعی معاملات عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔پاکستان عدالت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی جے پاکستان سے اپنے فائنل آرڈر کو منوانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت کو بتا چکا ہے کہ اس کے دفاعی معاملات عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔پاکستان
عدالت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی جے پاکستان سے اپنے فائنل آرڈر کو منوانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس بھارت کے شہری کلبھوشن یادو کو پاکستانی فوجی عدالت نے پاکستان کے خلاف سازش رچانے ، ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے ،خون خرابہ کرنے ، عدم استحکام پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا جس پر بھارت نے عالمی عدات کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے شہری کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پر الزام لگایا کہ کلبھوشن یادو کو کراچی میں نہیں بلکہ ایران میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اپنی گرفت میں لینے کے بعد کراچی پہنچا کر اسے ملک دشمن سرگرمیوں میں پھنسا کر فوجی عدالت کے ذریعے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔ بھارت نے اپنے شہری کو بچانے کیلئے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں عرضی دائر کی اور انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو سزائے موت پر روک لگانے اور عالمی عدالت میں کیس کی نئے سرے سے سماعت شروع کرنے کے بارے میں آگاہ کیا ۔ بھارت پاکستان کے قانونی ماہرین انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں حاضر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتعار اوسہ نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں ملک کے جاسوس کو جب پکڑا جا تا ہے تو اسے تحقیقات کے زمرے میں لایا جا تا ہے اور جرم ثابت ہونے کے بعد ہر ایک ملک کے آئین کے تحت اس ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی عمل میں لائے ۔ اٹارنی جنرل نے کلبھوشن یادو کو پاکستان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملزم نے ملک میں خون خرابہ کرنے ، ملک کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے سازش رچائی تھی اور پاکستان نے اپنے آئین کے تحت اسے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔

پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے یا پھر اسے خود پتا نہیں ہے کہ وہ ایسے کیوں بہتی ہے ؟ تو شاید زیادہ مناسب ہوگا ۔۔ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان تھا کہ ہم نے کلبھوشن کے لیے وکیل بھیجا ہے اس بات نے ساری کہانی عیاں کردی ہے کہ پاکستان میں آخر چل کیا رہا ہے ؟ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ٹوئیٹ سے جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے ۔ کلبھوشن کیس میں فوج نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا اور اس نے اعتراف جرم کیا بھی ۔۔ معذرت کے ساتھ شاید مجھے صحیح علم نہیں کہ کلبھوشن شاید جمہوریت بچانے آیا ہوا تھا پاکستان میں فوج کو غلط فہمی ہوئی جو اس نے پکڑ لیا ۔۔ اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب حکومت نے کلبھوشن کیس کو گمنام کرنے کی کوشش کی تو تب فوج نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ ملک دشمن کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکتے ۔۔

دوسرا یہ کہ کلبھوشن ایک دہشت گرد ہے مگر حکومت کی نااہلی کی وجہ سے وہ عالمی دنیا میں ایک ہیرو بنتا جارہا ہے تاریخ کی کتابوں میں اسکی مثالیں بھی شامل ہوجائیں گی کہ کیسے اتنے عرصے تک کلبھوشن اپنا کام دشمن ملک میں بڑی کامیابی سے سرانجام دیتا رہا اور اس میں اس دشمن ملک کی جمہوریت نے اس کا بہت ساتھ دیا

کلبھوشن کی گرفتاری عین اس دن ظاہر کی گئی جس دن ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر تھے ۔۔ نواز شریف نے تب بھی کیس کو ایرانی صدر کے سامنے نہیں رکھا اور اپنی جمہوریت بچاتے رہے ۔۔ اس بات پر پاکستان میں موجود جاپانی آفیشل نے بھی حیرانی ظاہر کی تھی کہ کیوں بھارت اور ایران سے اس بارے میں بات نہیں کی گئی ۔۔ کلبھوشن ایک بڑی گرفتاری ہے مگر حکومت نے دنیا کے سامنے سچائی رکھنے کے بجائے اپنی جمہوریت بچانے میں ہی آفیت سمجھی ۔۔ کلبھوشن کی گرفتاری کے پانچ ماہ بعد اقوام عالم کا اجلاس ہوا جس میں نوازشریف کے پاس اقوام عالم کے سامنے کلبھوشن کیس رکھنے کا سنہرا موقعہ تھا مگر وہاں بھی نواز شریف صاحب نے جمہوریت بچائی اور چپ کر کے نکل لیے ۔۔

اسکے بعد نوازشریف نے کئی ممالک کے سرکاری و غیرسرکاری دورے کیے مگر مجال ہے جو کلبھوشن کا نام بھی کہیں لیا ہو ۔۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے تو انعام بھی رکھا دیا تھا کہ ’’ نواز شریف صرف کلبھوشن کا نام لے کر دیکھائیں ‘‘ ۔۔ پھر 29 مارچ کو نواز شریف نے خاموشی سے عالمی عدالت انصاف کی ثالثی تسلیم کر لی ۔ 10 مارچ کو فوجی عدالت نے فوجی قائدے قانون کے حساب سے کلبھوشن کو سزائے موت کی سزا سنائی ۔۔ جس کے بعد بھارت نے بہت شور مچایا مگر نوازشریف جواب دینے کے بجائے جمہوریت بچاتے رہے ۔۔ 11 مئی کو سجن جندال سے مری میں خفیہ ملاقات ہوئی جس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں ۔۔ مگر اس ملاقات کے فوراََ بعد افغانستان اور ہندوستان سے ایک وقت میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ۔۔ احسان اللہ احسان کا بھارت کے خلاف انٹرویو روک دیا گیا ۔۔

عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے مسئلے میں نہ پڑے اور کلبھوشن کو پھانسی کی سزا ہونے دے ۔۔ عالمی عدالت انصاف اگر ہزاروں معصوم شہریوں کے قاتل کو کچھ نہیں کہتی تو یہ عالمی عدالت انصاف کے انصاف پر ایک بہت بڑا دہبہ ہوگا ۔۔ ویسے بھی عالمی عدالت انصاف جنگی قیدیوں کے بارے میں کیس کی سماعت کرسکتی ہے جاسوسی کرنے والے اور دہشت گردی کرنے والے مجرم کے بارے میں نہیں ۔۔ کیونکہ قانون کے مطابق جہاں جو جاسوس یا دہشت گرد پکڑا جاتا ہے وہاں اسکے کے ساتھ وہاں کے ملکی قانون کے مطابق اسے سزا دی جاتی ہے ۔۔ اگر عالمی عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسکو کلبھوشن کیس میں تاخیر نہیں ہونے دینی چاہیے ۔۔ مجرم کا جو ساتھ دیتا ہے وہ بھی برابر کا شریک جرم ہوتا ہے ۔۔ عالمی عدالت انصاف سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا ۔۔ اسے چاہتے کہ وہ پاک افواج کی عدالت کے فیصلے کو درست فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے کلبھوشن کو نشان عبرت بنانے کا حکم دے تاکہ کوئی بھی کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو تباہ و برباد نہ کرسکے ۔۔

سپاہ سالار کے پانچ ماہ

0


سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ

ملت اسلامیہ اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ بھارت میں مسلم کش مودی ہے، امریکہ میں مسلم دشمن ٹرمپ آ گیا ہے، برما میں آنگ سان سوکی مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ ملت اسلامیہ کی اندرونی صفوں میں خوارج نے دہشت گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ ایسے میں خدا کو امت مسلمہ کی حالت پر رحم آیا اور راحیل شریف کے بعد انھی کی طرح کا ایک اور بہادر انسان بھیجا یعنی ایک ایسا قمر طلوع ہوا جس کی روشنی سے اب امت کا ہر دن عید اور رات شب برات ہو گی۔ جی ہاں میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہی بات کر رہا ہوں کہ وہ بھارت، افغانستان، ایران، عراق، شام وغیرہ کے علاقوں میں وہ فتح و نصرت کے جھنڈے گاڑیں گے اور بدامنی ختم کریں گے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس خطے کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوئی ،دفاعی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے داستان تو بہت طویل ہے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی دفاعی و اقتصادی لحاظ سے مزید اہمیت میں اضافہ ہوا ہے ۔جنرل راحیل شریف نے خطے کے لیے اور امن کے لیے بہت اہم کردار عطاکیا اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تخسیر بنایا ہے انھی کی طرح سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح اور مثبت حکمت عملی اور ٹھوس اقدامات سے پاکستان کو مزید مضبوط ومستحکم بنا رہے ہیں ۔انھوں نے کمان سمبھالتے ہی بہت سے اہم فیصلے کیئے جن کے مثبت نتائج جلد ہی دنیا کے سامنے آجائیں گے۔ صرف چند ماہ میں انھوں نے بہت سے اہم امور پر کام کیا ہے ذرا انکا ایک مختصر ذکر کرتا چلوں تا کہ سب جان جائیں کہ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ ملک و قوم کی خاطر رات دن کتنی محنت کر رہے ہیں ۔۔

شاید آپ کے علم میں ہوگا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار افغانستان کے بہت اندر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان نے کامیاب کاروئیاں کی ہیں اور سرجیکل سٹرائیک کر کے حقیقت میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور انکے مراکز بھی تباہ کئے ہیں بھارت کی طرح پاکستان سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ نہیں رچایا ۔ اس سے پہلے پاکستان کے کسی سپاہ سالار نے کسی بیرونِ ملک میں اس طرح کی سرجیکل سٹرائیکس نہیں کی تھیں ۔۔ ان سٹرائیکس کے نتیجے میں احسان اللہ احسان کا گرفتاری دینا۔ یہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے خوارج میں اب تک کی سب سے بڑی گرفتاری ہے۔ احسان اللہ احسان کی جانب سے کیے جانے والے انکشافات نے بہت سی پاکستان کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں سے پردہ اٹھایا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی بھارت افغانستان اور اسرائیل کی جانب سے کی جاری ہے جس کا ایک منظم نیٹ ورک افغا نستان سے آپریٹ ہورہا ہے ان ممالک کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان کو استعمال کیا جارہا ہے ۔۔ خیر وہ ایک الگ موضوع ہے میں احسان اللہ احسان پر نہیں اپنے ہمارے ہردلعزیر سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی بات کر رہا تھا کہ فوجی عدالتوں کا دوبارہ قیام جو کہ ختم ہو چکی تھی سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک کامیابی ہے کہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں، این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کی بے پناہ دباؤ کے باؤجود وہ یہ کام کر گزرے ۔ 26 دہشت گردوں کی پھانسی اور 100 سے زائد کو سزائے موت سنانا۔ یہ تعداد فوجی عدالتوں میں قیام کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے ۔۔ اسی طرح بلوچستان میں 600 فراریوں کا ہتھیار ڈالنا۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ پنجاب میں رینجرز آپریشن کا آغاز۔ اس سے پہلے یہ کوئی سپاہ سالار یہ نہیں کر سکا تھا۔ اور پنجاب کو کھنگال کر دہشت گردوں سے پاک کرنے کی ابتداء کا سہرا بھی سپاہ سالار کے سر ہے ۔۔ اسی طرح سپاہ سالار کی نگرانی میں پاکستان کی اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا اینٹلی جنس آپریشن جس میں چاروں صوبوں سمیت، فاٹآ اور آزاد کشمیر تک کا علاقہ بیک وقت کھنگالا جا رہا ہے ۔۔

سپاہ سالار کی سربراہی میں آپریشن ردالفساد پاکستان کی تاریخ کو سب سے بڑا آپریشن کا جسکا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ضرب عضب سے بڑا آپریشن ہے اور پورے پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے یہ شروع کیا گیا جس میں بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ۔۔ کل بھوشن یادیو کو سزائے موت کا حکم سنانا ایک بہت بہادری والا کام تھا کہ کلبھوشن یادو بھارت کا ایک حاضر سروس آفیسر اوربھارت کی ایک خفیہ ایجنسی را کا اہم ممبر تھا ۔۔ جو کہ بلوچستان میں پکڑا گیا اور اس کی نشاندہی اور بیانات پر بہت سے دیگر دہشت گرد بھی پکڑے گئے اور اسکا جرم بھی ثابت ہوا ۔

پھر جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی مردم شماری مہم کا آغاز بھی سپاہ سالار کا اہم کارنامہ ہے جو کئی سالوں سے نہ ہوسکا تھا ۔۔ آرمی چیف کی ہدایت پر افواج پاکستان کے مردم شماری والوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہیں ۔۔ اور معلومات حاصل کر رہی ہیں ۔۔ مردم شماری کو اگر آپریشن ردالفساد کا حصہ کہا جائے تو یہ کہنا بھی درست ہی ہے کہ ہر گھر گھر فوج ، پولیس اور مردم شماری والے ساتھ ساتھ جاتے ہیں ۔۔ تاکہ مردم شماری میں بھی کوئی مسئلہ نہ ہو اور صحیح معلومات حاصل کرنے کے علاوہ پاک فوج ہر علاقے کو چیک کر لیں اور تسلی کر لیں کے کوئی دہشت گرد تو نہیں چھپا ہوا کہیں کسی کے گھر میں ۔۔

سپاہ سالار نے سعودی عرب اور دبئی میں دورے کر کے ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لائی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی بھی ہوئی ۔۔ ان ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کی میڈیا پر خبریں بھی آنا شروع ہوگئی تھیں۔ ان کے علاوہ چین، قطر اور انگلینڈ کے کامیاب دورے کئے ۔۔

سپاہ سالار نے تمام تر مشکلات کے باؤجود افغانستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کیں ۔ جس کے لیے یہ صرف پانچ ماہ میں اب تک اشرف غنی سے تین ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔۔ اس بھاگ دوڑ کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے گل بدین حکمت یار کی افغان سیاست میں واپسی ہوئی بلکہ پہلی بار عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کے حوالے سے مثبت بیان جاری کیا ہے ۔ ۔

سپاہ سالار کی نگرانی میں ایل او سی پر بھی بھارتی جارحیت کا بھر پور جواب دیا گیا ۔۔ سپاہ سالار نے سب سے زیادہ دورے ایل او سی کے ہی کیے ہیں جہاں وہ تقریباً ہر دوسرے تیسرے دن فرنٹ لائن پر پہنچ کر جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے دفاع کے لیے تیار ہے ۔۔ جیسی بھی جنگ ہو یا لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی ۔۔ پاک فوج بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہے ۔۔ سپاہ سالار پاکستان کو پرامن اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی ترقی اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف موثر کاروائی کی جائے گی اور دشمن چاہیے بھارت ہو یا کوئی بھی اس کی سازشوں کو برداشت نہیں کریں گے ۔۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک عرصے تک کنٹرول لائن کی ذمہ داری سنبھالے رکھی ۔ وہ بھارتی ہتھکنڈوں سے بہتر انداز میں نپٹنا جانتے ہیں ۔ ایک طرف صورت حال یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے دشمن اور بھارتی ایما پر شر انگیزی پھیلانے والے شکست خوردہ دہشت گردوں نے افواج پاکستان کی طرف سے کمر توڑ اپریشن کے بعد اب پاکستان کے عسکری اداروں کیخلاف پراپیگنڈا اور اداروں سے منسلک افراد کی کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد آزادی کشمیر کیلئے سرگرم کشمیری مسلمانوں میں خوشی کی لہر سے جڑے حقائق اصل کہانی بیان کر رہے ہیں۔ ساٹھ برسوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار رہنے والے مظلوم کشمیری مسلمان جانتے ہیں کہ امور کشمیر اور خصوصی طور پر اس علاقے کی جغرافیائی سرحدوں کے معاملات کا بھرپور ادراک رکھنے والا ایک جری اور پیشہ ور جرنیل اب افواج پاکستان کا قائد ہے ۔ جہاں جنرل باجوہ کی عسکری قیادت پاکستان میں امن کی خواہاں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے فعال قوتوں کیلئے امیدِ نو کا پیغام ہے ، وہاں اس پیشہ ور سپاہی کا قیادت سنبھالنا بھارت کے ایما پر پاکستان میں شرانگیزی اور دہشت گردی پھیلانے والی طاقتوں کیلئے کسی ڈراؤنے خواب کی ہولناک تعبیر جیسا ہے ۔

سپاہ سالار پاک فوج کے جوانوں کی تنخواہوں میں اضافوں کے لیے کوشاں ہے۔ یاد رہے کہ پاک فوج دنیا میں کم ترین بجٹ رکھنے والی اور کم ترین تنخواہیں لینے والی فوج ہے تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ پچھلے 6 سال میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے۔ اسی طرح اپنے فوجی جوانوں کا خیال رکھنے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔۔ ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں انکے مسائل سنتے اور حل کرتے ہیں ۔۔ تاکہ وہ بھرپور طریقے سے بے فکر ہوکر ملک و قوم کی خدمت کر سکیں ۔۔ اسی طرح خصوصاََ اپنے عام سپاہیوں اور چھوٹے آفیسرز کی مراعات میں اضافے کا حکم دیا ہے ۔ سپاہ سالار کوشش کر رہے ہیں کہ آرمی جوانوں کو صحت کی زیادہ بہتر سہولیات دی جا سکیں۔ جس کے لیے اس نے آرمی ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگوا دی تاکہ وہ جوانوں کو زیادہ وقت دے سکیں۔

سپاہ سالار حکومت وقت پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ مدرسہ ریفارمز پر توجہ دیں تاکہ ایسے مدارس کی اصلاح ہو سکے جہاں شدت پسندانہ نظریات کی پرچار کی جا رہی ہو۔ کہا جا رہا ہے کہ بالآخر حکومت نے اس سلسلے میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امید ہے جلد ہی مدرسہ ریفارمز پر کام شروع ہوجائے گا۔۔

سپاہ سالار جنگی لحاذ سے ایکٹیو دنیا کی سب سے بڑی اور پیچیدہ افغان سرحد کے بہت بڑے حصے پر باڑ لگواا چکے ہیں ۔ سی پیک منصوبے سے متعلقہ سڑک اورافغان باڈر کے ساتھ خندق بن چکی ہے اور اس کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اور سپاہ سالار کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے سب سے اہم اتحادیوں چین، سعودی عرب اور ترکی کے فوجی دستوں نے پاکستان میں پہلی بار 23 مارچ پیریڈ میں شرکت کی اور دنیا کو دیکھا دیا کہ ہم ایک ہیں اور ہم ساتھ ملک کر چل رہے ہیں جس سے بھارت کی پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنی کی سازش بھی ناکام ہوئی ۔۔ روس سے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ملکر چلنے کے لیے تیار ہیں ۔۔

سپاہ سالار ریکوڈک منصوبے کو دوباہ زندہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان مضبوط ہو ۔ شاید کچھ لوگ نہ جانتے ہوں انھیں بتاتا چلوں کہ چاغی کے علاقے ریکوڈک اور سیندک میں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں وہاں سونے اور تانبے کے پورے پورے پہاڑ ہیں ۔۔ یہاں حکومت سے ایک سوال پوچھنا بھی ضروری ہے کہ آیا بلوچستان چاغی کے تانبے کے ذخائر کو ملکی وسائل سے ترقی دینے میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں ؟

ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کی تکمیل اور اس پر بے پناہ دباؤ کے باؤجود ایک ایسا فیصلہ جو اس وقت پاکستان کی ضرورت تھا۔ کچھ لوگ شدید تنقید کر رہے ہیں لیکن جو اس فیصلے سے سیاق و سباق سے واقف ہیں وہ اس کو بہترین قرار دے رہے ہیں۔ ملک خانہ جنگی اور انتشارکی طرف نہیں گیا لیکن اس کے باوجود ڈان لیکس کے اصل ذمہ داروں کی نشادہی ہوئی اور جب کوئی ایسی حکومت آئیگی جو سزا دینے پر آمادہ ہو تو ان کو انجام تک پہنچایا جا سکے گا۔ ۔ سپاہ سالار کروڑوں لوگوں کے ووٹ سے بننے والی جمہوریت کو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ۔ بے بناہ دباؤ کے باؤجود سپاہ سالار بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں ۔ ہاں یہ خود نشانے پر ہے۔ آمد سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا اور آب اس کے خلاف بہت ہی بڑی سوشل میڈیا مہم چل رہی ہے جس پر عمران خان جیسے لیڈر نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاکستان میں امن و امان کی بہتری حکومت اور پاکستان آرمی کی ترجیحات میں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے آرمی دیگر اداروں کےساتھ مل کر کام کر رہی ہے. مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوشش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے ایک مثبت کردار ادا کیا جا
ۓ.

کچھ عناصر ملک کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انکے بارے میں بھی سپاہ سالار کا کہنا ہے کہ ان سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جا
ۓ گا ۔ اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پاکستان آرمی دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی ۔۔ پاکستان کا دشمن بھی اس بات سے با خبر ہے کہ امن ہو یا جنگ، پوری پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑی ہے ۔ کچھ عناصر سازشوں میں مصروف ہیں انھیں باز آجانا چاہیے اگر وہ سلامتی چاہتے ہیں ۔۔ آئیے مل کر وطن عزیز اور افواج پاکستان کیخلاف متحرک اندرونی اور بیرونی عناصر کے مذموم ارادے ناکام بنائیں، آئیے سبز ہلالی پرچم کے ملک کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے مل کر ساتھ چلیں اور ملک و قوم اور عسکری اداروں کیخلاف سرگرم سازشی عناصر کی ہی شرانگیزی کو کلی طور پر ناکام بنائیں ۔۔