کیا ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ؟

0
سوچا تھا سیاست اور ملکی حالات و واقعات پر کچھ نہیں لکھوں گا۔ مگر کیا کروں سچا بولنے کی بیماری کے جراثیم مجھ میں بچپن سے ہی کچھ زیادہ ہیں اور اوپر سے ملک کے حالات اس عاجز و ناچیز کو بولنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ اب مرتا تو کیا نہ کرتا اس دلِ ناچیز کا ۔ جو چیخ چیخ کر کہ رہا تھا مجھ پر بھی حکمِ اذان لاگو ہوتا ہے ۔ اس لیے کچھ گزارشات اپنے دوستوں تک اور ملک و قوم کے سامنے بیان کرنے جا رہا ہوں ۔۔۔

  اب اس بارے میں کسی قسم کے شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان اور اسلام کے وجود کے دشمن ایک ہو کر بڑے منظم انداز میں مکمل تیاریوں کے ساتھ پاکستان اور اسلام کو دنیا میں بدنام کرنے اور مٹانے کیلئے بہت دور تک آگے نکل چکے ہیں ۔ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنےاور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش صرف غیرملکی اور غیر مذہب نہیں، اپنے بھی کر رہے ہیں ان دونوں محاذوں پر لڑنے میں تاخیر ہمارے لئے مہلک ثابت ہو گی۔ اب ہمیں اپنی بقا کیلئے دوٹوک فیصلے فوری لینا ہوں گے وگرنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔  
۔۔۔۔

اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت حرکت میں آ جاتے تودنیا میں اپنے آپ کو نہ بیچتے تو دنیا کے کابلِ فخر ادارے ہونے شرف حاصل کرتے اور ملکی حالات بھی ایسے نہ ہوتے ۔ دہشت گردی کی واردات کا اعتراف جن دہشت گردوں کی طرف سے کروایا جا رہا ہے اطلاعات ہیں کہ انہیں رکھا ہی اسی کام کیلئے گیا ہے کہ وہ پاکستان کا ناک میں دم کئے رکھیں اور پاکستانی حکومت اورسکیورٹی اداروں کیلئے مسلسل درد سری کا سامان کئے رکھیں مریکی وزیر خارجہ جان کیری بھارت میں ہندی میں خطاب کر کے بھارت کو افغانستان میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں؟ کیوں۔ کیا وہ جانتے نہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں بھارت سے زیادہ پاکستان نے دامے، درمے سخنے امریکا کا مجبور محض بن کر ساتھ دیا ہے اور اس میں کھربوں روپے کا نقصان بھی برداشت کیا اور اب تک جان و مال کے اس زیاں کا نہ دنیا اعتراف کرتی ہے نہ امریکا۔ "الٹا وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب  الٹا" کے مصداق افغانستان، بھارت اور امریکا ہی مستقبل کی نقشہ نگاری میں افغانستان میں مفادات کی بندربانٹ میں جتے ہیں اور اس میں سے پاکستان کا کوئی کردار کہیں نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان سے بالا بالا ان ممالک کا خطے میں بھارت کو بالادست بنانے کا خواب پورا کرنے کی تیاریوں سے پاکستان کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔

نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عوامل میں سے موثر ترین تفریح اور ثقافت کے نام پر فعال ادارے ہیں۔ جن کا کام نوجوانوں کی شخصیت کو سنوارنا نہیں بلکہ مفاسد کو ہوا دینا ہے۔ یہ ادارے نوجوانوں کے لیے پرکشش سرگرمیوں کا انتظام کرتے ہیں، جہاں غیر محسوس انداز میں اخلاق سوز عادات و اطوار کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان کا اصل کام پہلے سے موجود فاسدوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوتا ہے اور نئی نسل کو کھیل، ہنر اور دوستی کے نام پر اپنے دام میں پھنسانا ہے۔ سب سے خطرناک چیز نشہ آور اشیاء کے ذریعے نوجونواں کو منشیات کا عادی بنانا ہے۔ یہ مراکز جہاں بے حیائی اور فسق و فجور کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں، وہاں جرائم کو بھی بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اسی طرح نائٹ کلب، شیشہ پینے کی جگہیں، موسیقی کے نام پر عریانی اور رقص کی نت نئی محافل، اخلاق باختہ فلموں کے علاوہ شراب نوشی کے اڈے اسکی عام مثالیں ہیں۔  

0 comments: