کامیاب ملک ہوتا ہے کامیاب نوجوانوں سے

0
( Rising Country hota hai Rising nojawano sy )

میں پاکستان کا نوجوان لڑکا ہوں میرا تعلق کمپیوٹر کے مختلف شعبہ جات سے ہے ۔ آج کل سوشل میڈیا اور انڑنیٹ کا دور ہے ۔ انڑنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں مختلف لوگوں سے رابطہ ہوتا رہتا ہے اور بہت سے لوگ مجھے پاکستان میں ملے بھی ہیں اور بہت سے لوگ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں مگر پاکستان کے ملکی حالات میڈیا سے سن سن کر ڈرتے ہیں۔ خیر جب کبھی کسی غیر ملک میں جاؤ یا وہاں کے رہہن سہن کے بارے میں معلومات حاصل کرو تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کہاں ہے ؟ اور ہمارا ملک کہاں ہے۔ سوچ ، تخلیق اور تلاش (ریسرچ) کی چاہت ہمارے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔ خاص کر مغربی ملکوں میں۔


حقیقت یہ ہے کہ جن ملکوں میں ٹیکنالوجی وغیرہ کا علم زیادہ پڑھا جاتا ہے وہاں ہمارے ملک کے نوجوان بھی روزگار اور تعلیم کے لیے جاتے ہیں وہاں کام کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر کے وہاں پر اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ 


ہمیں اپنے ملک کی مٹی سے بہت پیار ہے ۔ جب ہم غیرملک میں کوئی اچھا نطام دیکھتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نطام ہمارے ملک میں بھی ہونا چاہیے۔ اپنے وطن کی محبت دورسرے ملک جا کرشدید ہوجاتی ہے کیوں کہ اپنے وطن کی مٹی ماں کی گود کی طرح یاد آتی ہے جس میں بچپن گزارا ہو۔ زیادہ تر ہم وطن پاکستانی نوجوان اپنے والدین اور ملک سے شدید محبت کرتے ہیں اور اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے خوط محنت کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں۔


جو کچھ خاندانوں کے کچھ نوجوان صرف پڑھائی کے لیے دوسرے ملک جاتے ہیں وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود کو وہاں ایڈجسٹ کرنے لگ جاتے ہیں اور بہت کم لوگ وطن واپس آتے ہیں اور اگر آ بھی جاہیں تو صرف اپنے لیے کام کرتے ہیں اور دوسروں سے الگ الگ رہتے ہیں۔ یہ سن کر یا دیکھ کر دل بھر آتا ہے۔




 جس طرح لوگوں کو جسماني لحاظ سے سالم اور پاک رکھنے کيلئے کئي ايک پيشگي اقدامات کي ضرورت ہوتي ہے اسي طرح ان کو فکري اور اعتقادي آلودگيوں سے پاکسازي اور محفوظ رکھنے کيلئے بھي پيشگي اقدامات کے طور پر معاشرے ميں علمي اور ثقافتي تدابير کواسطرح مرتب کرنے کي ضرورت ہے کہ جوانوں اور نوجوانوں کيلئے ايک پاک ، سالم اور فکري آلودگيوں سے دور ماحول ميسر ہو-

ابھی آہستہ آہستہ کچھ کامیاب لوگ ملک کی طرف توجہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں کامیاب نوجوانوں میں ایک نام امریکہ کی معروف سوشل میڈیا کمپنی یونجا میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکیٹو افسر ’سی ای او‘ دلاور سید کا ہے وہ بھی پاکستانی نوجوانوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔


اسی طرح بہت سے لوگ اب آہستہ آہستہ اپنے وطن کی خاطر بھی کام کرنے لگ گئے ہیں اور یہ بہت اچھی بات ہے


۔ نہ صرف نوجوان لڑکے بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کی ایک نوجوان بیٹی نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ بھارت میں کوئی بھی خاتون پائلٹ آج تک جنگ کے لیے تیار نہیں ہو 

 سکی۔اسی طرح ایک نام ملالہ یوسف زئی کا بھی ہے۔ جس نے پاکستان کا پہلا "قومی اعزاز برائے امن" جیتا۔
اسی طرح ارفع کریم نے نو سال کی عمر میں شمارندیات کا امتحان (مائیکروسافٹ سند پیشہ ور) کامیاب کر کے عالمی شہرت حاصل کی۔
اسی طرح ایک نام بابر اقبال کا ہے جو کہ ایک کمپیوٹر پروگرامر اور مائیکروسافٹ سرٹیفائڈ ہیں۔

 ۔ پاکستان کے نوجوان حنان علی عباسی کو کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ لیا ۔ 

اسی طرح کے بہت سے نام ہیں جو نوجوان اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں مصروف ہیں ۔ باقی نوجوانوں کو بھی چاہےیے کہ وہ بھی اپنے وطن کے لیے کام کریں۔ کیونکہ کامیاب ملک ہوتا ہے کامیاب نوجوانوں سے ۔


نوجوانوں کو تھوڑا سا اپنے کلچر اور تہذیب پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ ملا اور گلوبلائزیشن کی ملکر ہمارے کلچر ، ہماری تہذیب کے درمیان خلا پیدا کردیا ہے ۔  ہمیں چاہیے کہ کوئی ایسی راہ نکالیں کہ اسلام کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت بھی زندہ رہے اور ہماری نوجواں نسل کو غیر ملکوں کے نئے نئے ڈیزائنز ، تہذیب اور ثقافت جن پر دیوانی ہوتی ہے وہ کسی اور ملک سے درآمد نہ کرنے پڑیں۔

پردیسی نوجوان بھائیوں سے بھی درخواست ہے کہ آپ وہاں محنت کرو ۔ دولت کماؤ ، ہنر سیکھو اور کچھ عرصے وہاں گزارو پھر جب اس قابل اور کامیاب ہو جاؤ کہ پاکستان اپنے ملک کو فائدہ دے سکو تو واپس آ کر یہاں کام کرو آپ کے لائے ہوئے نئے خیالات اور دولت سے آپ کے ساتھ ساتھ اس ملک کوبھی بہت فائدہ ہوگا۔ کیونکہ کہ کامیاب ملک کامیاب نوجوانوں سے ہوتا ہے اور اگر پاکستان کے نوجوان اپنی جوانی کا فائدہ دوسرے ملکوں کو دیں گے تو کیا فائدہ وہ دوسرے ملک تو پہلے سے ہی کامیاب ہیں اب تھوڑا اپنے وطن پر بھی توجہ دو ۔ آپ کی کامیابی ملک کی کامیابی ہے اور ملک کی کامیابی آپ کی کامیابی ہے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ اور دنیا میں ہمارے ملک کی عزت میں اضافہ ہو ۔ کامیاب ہونے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت سے دوست یہ پوسٹ پڑھ کر سوچیں گے  کہ وہ اپنے وطن کے لیے کیا کرسکتے ہیں جس سے انکو بھی فائدہ اور اور ملک کوبھی ۔ اگر ایک نوجوان بھی کامیاب ہوکر ملک کو کامیاب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں سمجوں گا کہ میری لکھنے کی محنت ضائع نہیں گئی۔ 


   کامیاب ملک نہیں ہوتا ٹینک ، توپ ، میزائلوں ہتیاروں سے

   کامیاب ملک نہیں ہوتا دہہن دولت کے بھر خزانوں سے


   پر کامیاب ملک ہوتا ہے کامیاب نوجوانوں سے
.

0 comments: