Education Crisis (تعلیمی بحران)

0
ہمیشہ کی طرح جب بھی کچھ لکھنے کو بیٹھا دل و دماغ میں بہت سے پہلو اجاگر ہونے لگتے ہیں کہ اس ٹاپک پر لکھوں اس عنوان کو اپناؤں کسی شخصیت کے بارے میں لکھوں اپنے علاقے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے بارے میں وغیرہ وغیرہ ہمیشہ صافی اور بلاگر  برادری کی کوشش رہی ہے کہ ایسے ٹاپک کے بارے میں لکھا جائے جو کسی کا اصلاحی عمل ہو کسی سیاسی شخصیت پر اس کا اثر ہو اور وہ اس پر بات پر روشنی ڈالنے پر مجبور ہوجائیں ۔


اس دنیا میں تعلیم ہر شخص کا بنیادی اور لازمی حق سمھجا جاتا ہے پاکستان میں ان دنوں ہر شخص کو تعلیم کے ایک شدید اور سنگین بحران کا سامنا ہے پاکستان میں تعلیم سے متعلق اصلی حقائق بہت بُری حد تک خوفناک ہیں۔


بہت سے بچے اسکول جانے کے حق سے محروم ہیں اگر ہم بات کریں گورنمنٹ سکولوں کی تو وہاں بچے ٹوٹی پھوٹی عمارتوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان سکولوں میں اساتذہ بھی نہیں ہوتے اگر ہوں بھی تو وہ ہی پانچ یا دس پڑھے ہوئے پرانے اساتذہ جن کو نظر تک نہیں آتا انکی انکھوں کی بنیائی گئے ہوئے عمرِدراز ہو گئی اور وہ آج بھی پڑھا رہے ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان ہی ماسٹر صاحب سے شاید دس نسلوں نے پڑھا ہو باپ دادا یا پڑدادا کے زمانے کے استاد اور انکے زمانے کے سکول ۔


صورتحال روزبروز بگڑتی جا رہی ہے۔اور روزانہ ہمارے منتخب لیڈز (گیڈرز) ٹیلی ویژن چینلز پر بیٹھ کر ایک دوسرے پر فضول تنکید کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ عوام پاگل ہے ہمارے شغل میں اپنے مسئلے بھول ہی گی  ۔


اسی طرح وہ اپنا وقت گزار کر چلے جاتے ہیں اور انکا کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ کل پھر انکی حکومت آجانی ہے اس ڈر سے کوئی کچھ کہ نہیں سکتا اور خاص کر جو حکومت چلی جاتی ہے وہ اپنی کوئی ذمہ داری نہیں سمھجتی ۔ ایسا کوئی قانون ہو کہ ان گیڈرز کی چیک اینڈ بیلنس ہو جیسے  تمام حکومتی ارکان کی ہر سال عدالت میں پیشی ہو اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور وہ کارکردگی عوام کو ٹیلی ویژنز وغیرہ پر بھی دیکھائی جائے اور انکو ساتھ ساتھ کام نہ کرنے پر جرمانہ ہو پھر کچھ یہ لوگ ملک کےلیے سوچیں گے مگر وہ کیوں سوچیں جب ہم انکو ووٹ دیتے وقت نہیں سوچتے ۔


خیربات کہاں کی کہاں نکل گئی ۔ کیا کبھی کسی نمائندہ نے بتایا کہ ہم نے اس مہنے اتنے سکول اور ہسپتال بنائے ۔ کچھ تو چلو نام کی خاطر بنوا بھی دیتے ہیں مگر ان میں عملہ نام کی کوئی شے تو ہوتی ہی نہیں ہے۔


میڈیا والے بھی ان فضول لوگوں کو صرف سیاسی لڑائی جھگڑے اور شغل کیلے دعوت دے دیتے ہیں مگر انھوں نے کبھی اہم اور خاص اِشو ، تعلیم ، صحت اور نوجوانوں کے دوسرے مسائل پر کبھی بات نہیں کی ۔

ویسے لیڈرز نے ہماری تعلیم اور تعلیمی نظام کے بارے میں سوچنا بھی نہیں ہے کیونکہ انکے اپنے بچے تو پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لائق نہیں ہیں ؟


حکومتِ پاکستان بھی تعلیمی بحران کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت اور مانگ ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام ہی خراب ہے اگر تعلیمی نظام ٹھیک ہوتا تو باہر دوسرے ملکوں سے لوگ جب یہاں پڑھنے آتے تو کچھ فائدہ دے کر ہی جاتے ۔ وہ اپنا روپیہ پیسہ پاکستان میں ہی چھوڑ کر جاتے اور تعلیمی نظام وہ راستہ ہے جس میں لوگ سمجھوتا نہیں کرتے اور اچھی تعلیم کے لیے بغیر سوچے سمجھے پیسہ لگاتے ہیں اگر دنیا میں ہمیں اپنے ملک کی عزت چائیے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر توجہ دے کر اپنے ملک کو تعلیمی بحران سے نکالنا ہوگا۔ 

ہمارے ملک میں بہت سے تعلیمی نظام رائج ہیں ۔ جن کی وجہ سے ملک میں ہم سوچ کی ہم آہنگی کے بجائے فکری انتشار بڑھ رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کسی ایک تعلیمی نظام کو اپنایا جائے اور اس کو ملکی نظریہ ( اسٹیٹ آئیڈیالوجی ) کی حیثیت دے کر اپنا لینا چائیے ۔ ملکی نظریہ سے ہم آہنگ مگر تمام ملک کے لیے صرف ایک ہی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جائے ۔ تعلیم کے حوالے سے تمام امور بشمول ترجیحات اور انتظامی امور طے کیے جائیں۔ اس نظریاتی کشمکش نے تعلیم کے شعبے کو بھی تباہ کر دیا ہے ۔  تعلیم کا شعبہ نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ تحقیق و تصنیف اور کردارسازی نہ ہونے کے برابر ہے۔

وزیرِ اعظم صاحب اس مسئلہ پر توجہ دیں ۔ اور عمران خان صاحب نے اپنے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا کہا مگر انھوں نے بھی ابھی تک اپنے صوبے میں ایک تعلیمی نظام کی بنیاد نہیں رکھی ۔ حکومت میں شامل تمام افراد سے گزارش ہے کہ ملک میں ایک تعلیمی نظام لائیں جس سے ملک میں تعلیمی بحران سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    جاری ہے   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments: