سیاست کا سمندر

0

سیاست ایسا سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں ملتا ۔۔ سیاست میں وقت ، جگہ اور مقام ایک سیاستدان کے لیے بڑے قیمتی اوزار ثابت ہوتے ہیں ، عمران خان کے دھرنے کی مقبولیت اور جلسوں کی افراتفری نے ملک کے ہر کونے میں تبدیلی کے پوسٹرز لگا دیے ہیں ۔ لوگوں کے شعوری پرزوں میں لگا زنگ اترنے لگا ہے ۔ تبدیلی کی ہوا عوام کو ایک “بہتر نظام“ کا پیغام پہنچا رہی ہے ۔ راولپنڈی کے سیاسی موسم میں ن لیگ اور  پی ٹی آئی  کے بادل دھیمی گردش میں مصروف ِ منزل ہیں ۔۔

حالات کی ذراسی جنبش انسانی رویوں اور سوچوں سے کبھی کبھی اتنا اچھا فیصلہ کروادیتی ہے تپتی لو میں ٹھنڈی صبا کا گزر جو پرتازگی پھینک دیتا ہے ۔ اور نظریاتی فیصلوں کی قدر کرنی چاہیے ۔ یہاں لوگ چہروں کو ووٹ دیتے ہیں اور اپنی امانت کو انا کی لہروں کا لقمہ بنا دیتے ہیں ۔ ہم ووٹ کو ذاتی مفاد کی چکی میں پیس دیتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ہمارے پاس کسی کی مخلصی ، حب الوطنی ، ایمانداری اور وفاداری ماپنے کا کوئی آلہ نہیں ہے ۔۔مگر کردار چھپتے نہیں ہیں کردار ضرور بولتے ہیں ۔ آپ کردار کو ووٹ دیں ملک کو خوبصورت چہروں کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ملک جب بھی کامیابی کے ساحل پہ کھڑا ہوتا ہے ہم اس کو کنکر مارنا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ اس وطن میں پھول بکھیرنے کی 

جستجو کریں سازشی کنکر خودبخود بے اثر ہو جائیں گے ۔

ہمارے ملک میں زیادہ تر ساست نظریات سے ہٹ کر برادری ازم پر ہے۔ اس لئے امیدوار علاقے کی مسائل حل کرے نہ کرے مگر لوگ ووٹ دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جب تک برادری ازم سے ہٹ کر صاف ستھری کا چناؤ نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت تک اس ملک کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے ۔۔


مثبت سیاست جمہوریت کا توانا کندھا ہوتی ہے۔ یہی مثبت سیاست جمہوری حکومت کو عوامی بوجھ اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ احتجاج سیاسی شطرنج کا فلسفی مہرہ ہوتا ہے جیسا کہ آپ کو لونگ مارچ میں دیکھنے کوملا ۔ جو سیاسی فضا کو ہر طبقہ میں گرما دیتا ہے ۔
سیاست کا منجھا ہوا کھلاڑی وقت کے بدلتے روپ رنگوں کو آہٹ کی آواز سے پہلے سمجھ لیتا ہے ۔ وہ سیاست کا برگد بن جاتا ہے ۔ سیاست کی باریک بینیاں ہمہ وقت اس کے آگے ہاتھ باندھے رہتی ہیں ۔ 



0 comments: