کشمیر کا مسئلہ اور پٹھان کوٹ حملہ

0


کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل امن مذاکرات ہیں ۔۔ جس سے بھارت اور پاکستان دونوں کو مل کر چلنا ہوگا ۔۔ جب بھی کوئی مذاکراتی عمل چل رہا ہوتا ہے تو درمیان میں کوئی نا کوئی واقع رہنما ہوجاتا ہے ۔۔ جس سے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔ جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو بھارتی میڈیا فوراََ سوچے سمجھے بغیر الزامات پاکستان پر لگا دیتا اورجیسا کہ ابھی حالیہ پٹھان کورٹ واقع میں ہوا ، اور کشمیری مجاہدین کو پاکستان کوئی دہشت گردی یا کسی جرم میں سپورٹ نہیں کرتا پاکستان صرف امن سے بھارت سے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے ۔۔ اگر کشمیر مجاہدین سیخ پا ہیں بھارت پر تو اس کا ذمہ دار بھارت خود ہے ۔۔ بھارت کو چاہیے کہ الزامات کی سیاست چھوڑے اور امن کے دشمنوں کی باتوں میں نا آئے اور جلد سے جلد پرامن مذاکرات سے کشمیر کا مسئلہ حل کرے ۔۔ تا کہ دونوں ملکوں میں امن ہو ۔۔ اور ہمارے دشمنوں کو موقع بھی نہ ملے کسی قسم کی شرانگیزی کا ۔۔


 بھارت اور پاکستان کے باہمی رشتے بہت عجیب ہیں۔ ان کی فطرت میں گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ہونا شامل ہے ۔  بی بی سی نے ان دونوں کے رشتے کو مشہور کارٹون ٹام اینڈ جیری قرار دیا تھا جس میں بلی اور چوہا ایک دوسرے کو ستاتے رہتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان دونوں میں ایک کشمیر کا مسئلہ بنا ہوا جو کہ حل ہی نہیں ہو رہا دونوں ملکوں سے اور جب کچھ حل کی صورتحال نکلتی ہے کوئی پرامن مذاکرات ہونے والے ہوتے ہیں امن مذاکرات کے لیے ماحول ساز گار ہوتا ہے تو کچھ نا کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ دونوں پھر اپنی اپنی جگہ پر واپس چلے جاتے ہیں ۔۔ یہ عمل مسلسل چلتا رہتا ہے، یعنی دونوں کبھی کھل کے ملتے ہیں اور کبھی چھپ کے۔ پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں اور دوستی کے گیت گانے کی تیاری کرتے ہیں کہ اسی درمیان ہندی میں کہیں تو اپ شگون ہو جاتا ہے۔ اور کوئی بیچ میں اپنی ٹانگ اڑا دیتا ہے ۔۔

اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ نریندر مودی نے بڑی خاموشی کے ساتھ پیرس کی رومانی فضاﺅں میں نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں نے بنکاک میں پیار کی باتیں کیں۔ پھر وزیرخارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور ہری ساڑھی باندھ کر میاں نوازشریف سے ملاقات کی۔ ابھی ان ہنگاموں کی گرد بیٹھی بھی نہیں تھی کہ مودی نے اچانک لاہور کا دورہ کرلیا۔ وہ روس گئے ہوئے تھے، وہاں سے افغانستان گئے اور پھر لاہور پدھار اٹھے۔ بڑی واہ واہ ہوئی کہ مودی نے وہ کر دیا جو اب تک کسی وزیراعظم نے نہیں کیا تھا، لیکن ان کے اس اچانک دورے کی بھی گرد ابھی نہیں بیٹھی تھی کہ پٹھان کوٹ میں طوفان اٹھ گیا۔ دہشت گردوں نے ایئربیس پر حملہ کردیا۔ مگر بھارتی میڈیا نے فوراََ پاکستان الزامات لگا دیا اور بعد میں  سکھوں پر لگا دیتے پھر کشمیری مجاہدین نے کا بیان آ گیا ۔۔

بھارت پاک تعلقات میں بڑی نزاکتیں ہیں‘ بڑی پیچیدگیاں ہیں اور بڑی قباحتیں بھی ہیں۔ اس حکومت کے قیام کے بعد دونوں ملکوں کے رشتہ میں آئے نشیب و فراز کو ہی دیکھ لیں۔ مودی نے سب سے پہلے میاں نوازشریف کو تقریب حلف برداری میں مدعو کیا۔ اس کے بعد جب مذاکرات کی منزل تک دونوں پہنچے تو اس بات پر بات چیت کی میزالٹ گئی کہ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور وہاں کے خارجہ سیکرٹری جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند حریت رہنماﺅں سے ملیں یا نہ ملیں پہلے یا بعد میں ملیں، پاک ہائی کمشنر نے اپنے خارجہ سیکرٹری کی آمد سے قبل حریت رہنماﺅں کو مدعو کرلیا اور یہاں کی وزارت خارجہ نے سخت نوٹس بھیج کر انہیں مذاکرات سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ جب وہ نہیں مانے تو میز ہی الٹ دی گئی۔ اس کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے کی کوشش کی گئی۔ نوازشریف کے مشیر برائے امور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز دہلی آنے والے تھے لیکن جب ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ درپیش آگیا تو بات بگڑ گئی۔ سرتاج عزیزچاہتے تھے کہ مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت ہو لیکن بھارت کا اصرار تھا کہ نہیں صرف دہشت گردی کے مسئلے پر بات ہوگی۔ اسی بات پر دونوں اڑ گئے اور تب بھی دونوں  نے مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اسی طرح جب کبھی دونوں میں سے کوئی ایک ملک دوسرے کے ہائی کمشنر کو طلب کرکے کسی مسئلے پر پھنکار لگاتا ہے تو دوسرا بھی اسی قسم کی جوابی کارروائی کرتا ہے۔ اس طرح دونوں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے اور دوسرے کو زیر کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔


پاکستان اسے اپنا کورایشو یعنی اصل ایشو قرار دیتا ہے۔ وہ کشمیر کو اپنی شہ رگ بتاتا ہے جبکہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور بھارت کشمیر میں ظلم بڑھادیتا ہے ۔۔ دشمن یہ جانتا ہے کہ  جب بات چیت بگاڑنی ہوتی ہے تو اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرلیتا ہے ۔۔  ۔ مسئلہ کشمیر امن و امانہے اور پاکستان امن مذاکرات کے ذریعہ سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہے ۔۔ کشمیری مجاہدیں نے پٹھان  کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جوطاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان یہ جانتا کوٹ حملے کے سلسلے میں جو وڈیو بھیجی اس میں مجاہدیں نے بھی کہا کہ انھوں نے بھارت کے ظلم سے دل برداشتہ ہو کر ایسا کیا اور اس حملے سے پاکستان یا کسی اور ملک کا کوئی تعلق نہیں ۔۔ پھر بھارتی میڈیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں ۔۔


بھارتی قیادت کو چاہیے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے جلد از جلد کشمیریوں کے جذبات کو سامنے رکھ کر کوئی حل سامنے لائے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیار ہے۔ گیند بھارتی قیادت کی کورٹ میں ہے۔ بھارتی قیادت چاہے تو تنازعہ کشمیر حل ہو سکتا ہے۔ اور پٹھان کوٹ کیس میں پاکستان پر الزام ہے بھارت کا محض یہ اس بات سے شاید واضح نہیں ہو رہا کہ جب پاکستانی وہاں جا کر انکی ٹیم کے ساتھ مل کر تحقیق کرنا چاہتے ہیں واقع کی تو کیوں منع کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ بھارت اور اسکی فوج کا اپنا جھوٹا پرپیگینڈا تو نہیں کشمیر اور امن مذاکرات کو ٹال کر اور پاکستان کو نیچا دیکھانے کا ۔۔ دنیا بھر میں بھارت پر دباؤ تھا اور بھارت کا چہرہ اور کشمیر میں ہونے والے ظلم دنیا کے سامنے آ رہے تھے میڈیا اور عوام اور عالمی تمام ممالک کشمیر کے مسئلہ کے لیے بھارت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ بھارت اور اسکی فوج نے خود ہی اپنے ملک میں یہ ڈراما کر کے الزام پاکستان پر لگا دیا ۔۔ پھر کشمیری مجاہدین پھر مولانا مسعود پر اور کبھی خالستان کو روکنے لیے سکھوں پر سب پر الزامات لگائے جا رہا ہے بھارت اس وقت سخت بھوکلاہٹ کا شکار ہے ۔۔ اس نے امن مذاکرات ٹالنے لیے حملہ تو کر دیا مگر اب اس سو چ میں گم ہے کہ آخر وہ نام کس کا لیے ۔۔ بھارت سے گزارش ہے کہ ڈرامہ بازی چھوڑ کر اس کشمیر کے مسئلہ کا پرامن حل نکالے ۔۔

پاک بھارت تعلقات کی نوعیت کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت تنازعہ کشمیر کے حوالے سے کسی قابل قبول فارمولے پر پہنچے۔ اب دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک تنازعات سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور اپنی ترجیح اقتصادی ترقی کو بنانا چاہتے ہیں۔ دنیا بھر میں اقتصادی بلاک بن رہے ہیں۔

0 comments: