خطے میں پاکستان اور افغانستان کا کردار

0

خطے میں پاکستان اور افغانستان کا کردار
(Pakistan Afghan Taliban Peace Talks)



پاکستان افغانستان میں حقیقی امن و استحکام کا خواہاں ہے اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ انھی امور پر بات بھی کی گئی ۔۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں بھارت کو بھی مدعو کیا ہے جس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی پاکستان آئیں ۔۔ اس کانفرس میں افغان کے صدر بھی شریک ہوئے ۔۔ اس ہارٹ آف ایشیا کانفرنس جس میں افغانستان کی صورت حال پر روشنی ڈالی گی جو کہ وقت کا اصولی تقاضا تھا ۔ اس حوالے سے افغان حکومت اور طالبان تنظیموں کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ازسرنو بحال کرنے کے بارے میں بھی بات کی گئی ۔

اس کانفرنس میں7 وزرائے خارجہ شرکت کر رہے تھے جن میں پاکستان کے 4 پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شامل تھے جو اس سال میں دوسری مرتبہ پاکستان آئے تھے۔ جب کہ 14 شریک ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود بھی شرکت کر رہے تھے جن میں 17 ممالک کے حمایت کنندگان (سپورٹرز) اور 12 بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں کے سینئر نمایندے شامل تھے ۔۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن کی کوششیں تھا ۔۔ اوریہ پاکستان میں ہی منقد کی گئی ۔


پاکستان کی خطے میں امن کی کوششوں کی وجہ سے اب افغانستان بھی امن کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا چاہتا ہے ۔ افغان صدر نے پاکستانی وزیر َِاعظم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہارٹ آف ایشیا کے بارے میں ہمارا ویژن مشترک ہے۔ جنوبی ایشیاء اور وسطیٰ ایشیا کو توانائی‘ گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے ذریعے مربوط کر کے اقتصادی یکجہتی کی ضمانت دی جائے گی اور یہ کام اب محض خواب و خیال نہیں رہے گا بلکہ حقیقت بن جائے گا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان اور خطہ میں امن کیونکہ پاکستان ایک سمجھدار ایٹمی ملک ہے ۔


 افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو اس سے وسطیٰ ایشیاء اور جنوبی ایشیا کے مابین زیادہ بہتر اور وسیع تر اقتصادی تعلقات قائم ہو سکیں۔ افغانستان کی بیرونی تجارت کا زیادہ تر انحصار پاکستان پر ہے جب کہ پرامن افغانستان کی صورت میں پاکستان بھی وسط ایشیائی ممالک تک محفوظ رسائی حاصل کر سکے گا اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تاجکستان‘ ترکمانستان اور ازبکستان سے بجلی اور گیس جنوبی ایشیا کے ممالک تک لائی جا سکے گی ۔


سیاست کا حقیقی انحصار اقتصادیات پر ہوتا ہے۔ افغانستان گیس پائپ لائن کا بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں اور سڑکوں اور ریل کی آمد و رفت جو کہ وسطی ایشیاء سے اس کی سرزمین تک آئیں جائیں کروڑوں اربوں ڈالر کی رائلٹی حاصل کر سکتا ہے۔ گیس اور بجلی کی مسلسل ترسیل کے بغیر پاکستان کی اقتصادی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ جو پاک افغان تعلقات کو سبوتاژ کر رہے ہیں وہ افغانستان کے دوست نہیں ۔


صدر اشرف غنی کی درخواست پر کابل اور افغان طالبان کے درمیان پاکستان نے ڈائیلاگ شروع کرنے میں معاونت فراہم کی تھی۔ پاکستان واحد مقصد ان کے اور حکومت کے درمیان براہ راست رابطے استوار کرنا ہیں ۔ تاکہ خطہ میں امن ہو ۔۔ اسی سلسلے میں پاکستان ، افغانستان کو ہر طرح کی امداد مہیا کر رہا کہ خطہ میں امن ہو اور مذاکرات کامیاب ہوں ۔


پاکستان میں موجود لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں بھی مدد ملے گی۔ پاکستان امن دوستی اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے خواہاں ہیں۔ ایک دوسرے کے قومی مفادات اور اس ضمن میں حساسیت ہمارے مستقبل کے تعلقات کی بنیاد ہونی چاہئے ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس خطے کے حالات سازگار ہوں تو علاقائی تنظیمیں بھی یکجہتی کے فروغ، سلامتی کی بہتری اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں جس سے نہ صرف افغانستان کو فائدہ ہوگا بلکہ پورے خطے کی فضا میں بہتری اور خوشگواری آئے گی۔ اس عمل کے نتیجے میں عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ اور استحکام میں بھی خاطر خواہ مدد اور کامیابی حاصل ہوسکے گی۔


امریکہ نے افغانستان میں امن مصالحتی عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ افغانستان میں ترقی کیلئے امن ضروری ہے ۔۔ اقتصادی ترقی کے سوا افغانستان کیلئے امن کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ شیر شاہ سوری کے دورکی کابل سے ہندوستان تک کی سڑک کو ترقی کا بہترین راستہ بنایا گیا ۔ دنیا کو چاہیے کہ پاکستان کی افغان کی امن کوششوں میں پاکستان کا ساتھ دے ۔۔ اور خطے میں امن قائم کرنے کو یقینی بنائے ۔۔۔۔


0 comments: