بہادُر باجوہ

0





جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے 16 وایں سپاہ سالار ہیں ۔۔ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ثابت کر دیا آدمی تبدیل ہوا ہے ادارے کی پالیسی نہیں. سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی راحیل شریف کی طرح ہی عوام کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہیں ۔ عوام اور فوج کا مورال بلند رکھنے کے لیے یہ بات ضروری بھی ہے ۔۔ جس بات کا نئے آرمی چیف کو باخوبی اندازہ ہے اور کوئی بھی مسئلہ ہو وہ عوام کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اور جب کوئی فیصلہ لینا ہو تو قوم کی آواز بن کر قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں ۔۔ 

جب انکو آرمی چیف کا عہدہ سوپنا گیا اس وقت دشمن عناصر نے انکے عقیدے کے بارے میں افواہیں اڑائیں حالانکہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ۔۔ راسخ العقیدہ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ پچھلوں کے ایمان کمزور تھے بلکہ انکے بارے میں لوگوں نے جھوٹی افواہیں پھیلا کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی اس لیے واضح کرنا پڑا کیونکہ پچھلوں کے بارے میں پہلے ایسی باتیں نہیں ہوئی ۔ اور سپاہ سالار نے بہت بہادری سے اپنے اوپر لگنے والے اس الزام کو غلط ثابت کیا ۔۔ 

بہت سے لوگوں نے کہا کہ آرمی چیف تو نواز شریف کا اپنا بندہ ہے اب تو ہر فیصلہ مشاورت سے ہی طے پائے گا ۔ سپاہ سالار غیر سیاسی سوچ رکھتے ہیں ویسے بھی فوج کا کوئی شخص دوران ملازمت کسی سیاسی جماعت کا نہیں ہوتا وہ صرف ملک کا فائدہ ہی سوچتا ہے ۔ غیر سیاسی سوچ رکھتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب تک جو 15 سپاہ سالار مقرر ہوئے ان میں سے کچھ تقرری سے پہلے کیا کسی سیاسی تنظیم کے کارڈ ہولڈر بھی رہ چکے تھے ۔۔ یہ کچھ لوگ افواہیں اڑاتے پھرتے ہیں ۔ مگر سپاہ سالار نے اپنے ادارے کی پالیسی کا ہمیشہ خیال رکھا ہے اور ملکی و قوم وقار کو ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔۔ 



جنرل قمر جاوید باجوہ کے منصب سنبھالتے ہیں پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ ساکھ کو متنازعہ بنانے کیلئے سرگرم سازشی عناصر کی طرف سے خود ساختہ ڈس انفارمیشنز کا سلسلہ شروع ہے ۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنرل باجوہ صاحب اپنے ہم خیال افراد کی ٹیم کو اپنے آفس میں لا رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان آرمی کی ازل سے روایات یہی ہیں کہ آرمی ایک ایسی ون یونٹ آرگنائزیشن ہے جس کے سپاہی سے لیکر جرنیلوں تک تمام افراد صرف ملکی سلامتی اور اس کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے عظیم تر قومی فریضہ کیلئے ایک وجود کی طرح یک جان ہیں۔ لہذا آرمی میں کسی بھی جرنیل کی طرف سے گروپنگ اور اپنی یا پرائی ٹیم جیسی ناقابل فہم دھڑے بندیاں خارج از امکان ہی نہیں ، مضحکہ خیز ڈس انفارمیشن ہے


آرمی چیف حکومت کے سیاسی مسئلوں سے دور رہنا چاہتے ہیں کیونکہ فوج غیر سیاسی ادارہ ہے اور قمر جاوید باجوہ ایسے سپاہ سالار ہیں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔ حکومت کا کام سیاست کرنا ہے اور فوج کا کام حفاظت اور دفاع کرنا ہے ۔۔ پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے دفاع کے لیے تیار ہے ۔


کچھ عناصر ملک کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انکے بارے میں بھی سپاہ سالار کا کہنا ہے کہ ان سے آہنی ہاتھوں سے نپٹا جاۓ گا ۔ اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پاکستان آرمی دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی ۔ 


قمر جاوید باجوہ نے کمان سنبھالتے ہی مثبت فیصلے کیے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح نظر آئیں گے۔اور جو لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن رک جائے گا یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ پاک فوج باحیثیت ادارہ یہ فیصلہ کرچکی ہے ۔۔ کہ ملک کی سالمیت کیلئے کسی قسم کی کارروائی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کے مثبت اور منفی ناقدین بھی اس امر سے خوب واقف ہیں کہ آج تمام بین الاقوامی میڈیا ہی نہیں بلکہ بھارت کے سابقہ جرنیل بھی افواج پاکستان کے سپہ سالار کو ، حلقہء سپاہ میں مقبول ایک جری قائد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال دبنگ جرنیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ پاکستان کا دشمن بھی اس بات سے با خبر ہے کہ امن ہو یا جنگ، پوری پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑی ہے ۔ کچھ عناصر سازشوں میں مصروف ہیں انھیں باز آجانا چاہیے اگر وہ سلامتی چاہتے ہیں ۔ 
سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہی دہشت گردی کے خلاف ایک بڑا قدم آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا ۔ سپاہ سالار خصوصاََ اس کی نگرانی کر رہے ہیں ۔۔ آپریشن رَدُّالفَسَاد شروع کرنے کا مقصد اب تک کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا اور دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا ۔ یہ آپریشن ملک بھر میں جاری ہے ۔ اس آپریشن کا مقصد ملک میں بچےکھچے دہشت گردوں کے خلاف کاروائ عمل میں لائ جارہی ہے ۔۔ آپریشن ردالفساد کی تفصیل میں اپنے گزشتہ مختلف کالم وبلاگ میں ذکر کرچکا ہوں خیر ابھی میں سپاہ سالار کا ذکرکر رہا تھا اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتا ہوں میں سپاہ سالار کے بارے میں کیا عرض کروں جن کی بہادری اور پروفیشنل ہونے کی مثال دشمن دیتے ہوں۔ 


بھارت جاسوس کلبھوشن یادو جس کو بلوچستان سے پکڑا گیا سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے کل اس کے سزائے موت کے فیصلہ پر دستخط کردیئے ۔۔ سپاہ سالار کے اس فیصلے اور بہادری سے بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں کہ ان کے ایک حاضر سروس آفیسر پکڑا گیا اور پاکستان نے اس سے سب سچ اگلوا کر اسے انجام تک پہنچایا ۔۔ یہ کلبھوشن یادو کو سزائے موت نہیں بلکہ فوجی عدالت نے بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر کو دی ہے جو دنیا بھر میں دہشت گردی کی وارداتیں کرواتے ہیں ۔۔ بھارت کے حاضر سروس جاسوس کو پاکستانی حدود سے گرفتار کرنا اور قلیل عرصہ میں تفتیش مکمل کرنے کے بعد پھانسی کا حکم صادر کر کے پورے بھارت کی نیند حرام کرنا ایسا کرارا جواب بھارت کو پاک فوج ہی دے سکتی ہے۔ یہ عظیم کارنامہ جنرل قمر باجوہ کے ہاتھوں پھانسی کے حکم نامہ پر دستخط سے ہوا ہے۔ یہ سب آرمی چیف کی بہادری اور اپنے مشن پر مکمل فوکس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آخر جنرل صاحب نے ثابت کیا کہ کوئی فرد ملک سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا ۔ 


کچھ عناصر جو بھارت کے آلہ کار ہیں کل بھوشن کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ یا بھارت چلے جائیں ۔۔ یا پھر معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کے خون کی ہولی کھلینے والے اس کل بھوشن یادو کو نشان عبرت بنانے کا سوچیں ۔۔ تاکہ آئندہ بھارت پاکستان میں اپنا کوئی جاسوس بھیجنے کا بھی نہ سوچے ۔۔ میں تو کہتا ہوں کہ جاسوس کی سزا سزائے موت ہی ہو مگر دردناک بھیانک ہو ۔۔ میڈیا کے سامنے اسے بھوکے کتوں کے سامنے ڈال دینا چاہیے اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی فوراََ گرفتار کر کے تفتیش شروع کرنی چاہیے جو کل بھوشن یادو کے لیے سوال کر رہے ہیں کہ اسے اپیل کا حق ہونا چاہیے وغیرہ جناب جب ہمارے بہادر سپاہ سالار نے فیصلہ کردیا ہے تو انکے فیصلے پر اعتراز مطلب پوری فوج پر اعتراز اور پوری فوج پر اعتراز کا مطلب پوری قوم پر اعتراز ہے کیونکہ فوج تو عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے اور عام عوام کے دفاع کی خاطر ہی فیصلے کرتی ہے ۔۔ جو عوام کے دفاع کے لیے اپنے جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے تو وہ قوم کے فائدے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں ۔۔ آئیں مل کر سپاہ سالار کے اس جرات و بہادری پر انھیں خراج تحسین پیش کریں دشمن کے جاسوس وہ بھی جس نے لاکھوں معصوموں کی جان لی اسکو کیفرکردار تک پہنچانے پر انھیں مبارک باد پیش کریں ۔۔ راء کے ایجنٹ کل بھوشن یادو کو سزاء موت تمام پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک پیغام جو پاکستان میں دہشت گردی و بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں انکا ایسا ہی انجام ہوگا ۔۔ کوئی چیز نہیں جو ملکی مفاد سے زیادہ عزیز ہو ۔۔ شکریہ قمر باجوہ صاحب ہماری زمین سے دشمن کے ایک بندر کو کم کرنے کے لیے ۔۔ امید ہے باقی دوسرے بندروں اور انکے سہولت کاروں کو بھی ایسے ہی کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔۔ 

0 comments: