COASvisitUK ( آرمی چیف کا دورہ برطانیہ )

0




آرمی چیف کا دورہ برطانیہ

بہت دنوں سے سوچ رکھا تھا کہ اپنے قارئین کونئے سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں کچھ عرض کروں ۔ انٹرنیٹ پر کئی گھنٹے گزارنے کے بعد گکھڑ منڈی گوجرانوالہ سے اُٹھے اس کردار کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش بھی کی۔اس مشق سے گزرتے ہوئے میں نے کہیں یہ بھی پڑھاکہ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو جب یہ عہدہ سونپا گیا تب ان کے خلاف بہت سی افواہیں پھیلائی گئ مگر ہر سازش ناکام ہوئی ہر افواہ محض افواہ ہی تھی ۔۔ بری افواج کے سپہ سالار کا منصب سنبھالے جنرل باجوہ کو چھ ماہ کے قریب عرصہ گزر چکا ہے ۔ چھ ماہ میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی اور ردالفساد آپریشن بھی شروع کروایا تاکہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جاسکے اور دہشت گردی کا وجود پاکستان سے مٹ جائے یہ پڑھ ہی رہا تھا کہ پتا چلا کہ سپاہ سالار برطانیہ کے تین روزہ دورے پرگئے ہیں ۔۔

آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ 3 روزہ دورے پر برطانیہ میں ہیں جہاں انہوں نے برطانوی وزارت دفاع کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر برطانوی سی جی ایس جنرل نک کارٹر نے آرمی چیف کا استقبال کیا،انہیں گارڈ آف آرنر بھی پیش کیا گیا ۔ سپاہ سالار نے واضح کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔ پاک فوج نے پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا پاکستان میں اب کوئی نو گو علاقہ نہیں ۔اورسیز پاکستانی اپنے گاؤں میں بڑے بڑے گھر بنانے کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی کمپنیز بنا کر پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کریں ۔

انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں جبکہ ملک میں ضرب عضب آپریشن کے بعد اب آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے ۔بہت نامی گرامی دہشت گرد گرفتار کئے نام نہیں بتا سکتا مگر آپریشن رد الفساد میں بڑی کامیابیاں ملیں۔پرامن افغانستان سے ہی پرامن پاکستان ممکن ہے۔ سپاہ سالار کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا شکر گزار ہوں کے اس نے پاکستان اور افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے صالث کا کردار ادا کیا ۔ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانوی وزارت دفاع کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف ایئر چیف مارشل سر اسٹورٹ پیچ، پاکستان اور افغانستان کے لیے برطانیہ کے نمائندہ خصوصی اووِن جینکِنز اور امریکی ریزولیوٹ سپورٹ مشن کمانڈر جنرل جان نکلسَن سے الگ، الگ ملاقاتیں کیں ۔ برطانوی قیادت اور ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر نے امن و استحکام کے لیے پاکستان اور اس کی آرمی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے اس کا اعتراف کیا ۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘ جبکہ افغانستان میں امن مشترکہ مفاد میں ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے اور اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا ۔ ’بارڈر سیکیورٹی میکنزم پاکستان اور افغانستان کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ دونوں ممالک کو ترجیحی بنیادوں پر اسے طے کرنے کی ضرورت ہے۔‘ ۔ سپاہ سالار نے سی پیک منصوبے کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے، جس کا مقصد علاقائی اور غیر علاقائی اقتصادی ترقی ہے ۔

لندن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےاعزازمیں پاکستان ہائی کمیشن میں استقبالیہ منعقد کیا گیا،اس موقع پر انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو یقین دلایا کہ پاک فوج پاکستان کے تخفظ کے لیے تیار ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے غیر رسمی ملاقات کی، پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس نے سپاہ سالار کا استقبال کیا ۔ سپاہ سالار نے پاکستانی کمیونٹی کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نےملکی ترقی میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کی تعریف کی۔ سپاہ سالار نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے پاکستان کی ترقی میں پاک فوج کے کردار کو سراہا ۔ قوم کے تعاون سے دہشت گردی کیخلاف بہترین نتائج حاصل کررہے ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانی دی اسے دنیا میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔ گذشتہ چند برسوں میں پاکستان نے تمام مشکلات پر قابو پا لیا ہے اور سکیورٹی اور استحکام قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اقتصادی ترقی اور دہشت گردی کو شکست فاش تب ہی ممکن ہو سکتے ہیں جب دنیا پاکستان کا ساتھ دے ۔۔ کیونکہ پاکستان تو اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے ۔ دہشت گردی خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کو بھی خطے کی اقتصادی ابتری کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔۔ پاکستان نے بڑے بڑے خطرات کے باوجود اپنی خود مختاری اور سالمیت کا دفاع کیا ہے،پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگر بننے کا موقع ہے ۔ پاکستان ایک دن ضرور ایشین ٹائیگر بنے گا، انشاءاللہ

پاک فوج ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار رہی ہے اس سلسلے میں چیف کا موقف واضح ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کروائی کی جا
ۓ گی اور مگر افغانستان کو چاہیے کہ وہ بھی اس مسئلیہ کو سنجدییدہ لے ۔۔ اور پاکستان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی بہتری کے لیے کام کرے ۔

کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو ذہن میں خیالات کی جو ترتیب بنارکھی تھی اب قابو میں نہیں آرہی۔ہمارے اخبارات اور ٹی وی سکرینیں گزشتہ کئی دنوں سے اصرار کئے جارہے ہیں کہ جنرل باجوہ صاحب محض ایک سرکاری دورہ کر رہیں ہیں مگر شاید معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ سپاہ سالار کا یہ دورہ کتنا اہم ہے یا جان بوجھ کر انجان بنے ہوئے ہیں ۔۔ سپاہ سالار برطانیہ کے تین روزہ دورے کا پڑھ کر کچھ باتیں سمجھ میں آنے لگی اور سپاہ سالار کا کردار واضح ہوتا چلاگیا کہ باجوہ صاحب بھی راحیل شریف کی طرح ہی دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کریں گے بلکہ اگر گستاخی معاف کریں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں کہ امید ہے کہ یہ راحیل شریف صاحب سے بھی بہتر انداز میں پاکستان کا نام دنیا میں روشن کریں گے کیونکہ آپریشن ردالفساد بڑے پیمانے پر اور تلاش کرکے چن چن کر دہشت گردوں کو ختم کرنا ایک بہت ہمت والا کام ہے جوکہ سپاہ سالار کی سربراہی میں پوری قوت کے ساتھ جاری ہے جبکہ ضرب عضب تو محدود پیمانے پر تھا ۔۔ ردالفساد کی مثال ایسے ہے جیسے دودھ میں سے بال نکال کر پھینکا ۔۔ یعنی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے والے اور معصوموں کی جانیں لینے والے دہشت گرد جو چھپے ہیں انھیں تلاش کر کے انکا خاتمہ کرنا آسان کام نہیں تھا مگر سپاہ سالار نے پوری قوت کےساتھ یہ آپریشن جاری کروایا تاکہ ملک میں امن و امان بحال ہو ۔۔ پاکستان اقتصادی اور دفاعی اعتبار سے مستحکم ہو ۔ خیر میں بات کر رہا تھا برطانیہ کے دورے کی جس کا سب سے زیادہ فائدہ سی پیک منصوبے کو ہوگا کہ اسکی اہمیت دنیا کے سامنے آئے گی ، اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں دنیا کے سامنے رکھی ہیں تاکہ سب مل کر افغانستان میں امن کی کوشش کر کے خطے میں امن قائم کریں کیونکہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے وہاں امن ہوگا تو پاکستان بھی پرامن ہوگا ۔۔ کیونکہ سب سے زیادہ پاکستان کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے ۔۔ سپاہ سالار نے برطانیہ میں موجود افغان آرمی اتاشی سے ملاقات میں کہا کہ دہشت گرد ہم دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں ۔ مجھے ہر افغانی اتنا ہی عزیز ہے جتنا ایک پاکستانی ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ دورہ برطانیہ مختلف پہلوئوں سے بہت اہم ہے۔ جہاں انہوں نے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا وہیں اندرونی و بیرونی دنیا کو کچھ پیغامات بھی دیئے جنہیں ڈی کوڈکرکے سمجھاجائے تو بہت مثبت اثرات دنیا پر مرتب ہوں گے ۔۔ مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے سی پیک منصوبے سے خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی ۔ پاکستان میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں، امن مکمل طور پر بحال ہو چکا شہری ایک کونے سے دوسرے تک بلاخوف جا سکتے ہیں۔ اور مجھے سپاہ سالار کی ایک بات بہت پسند آئی اور میں اس بات سے بھرپور متفق ہوں جو انھوں نے اورسیز پاکستانیوں کو دعوت ِفکر دیتے ہوئے پاکستان کی خدمت کا ایک بہتریں مشہورہ دیا کہ بیرون ملک میں مقیم پاکستانیو آپ لوگ پاکستان کیلئے بہت اہم اور پاکستان کے سفیر ہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی بجائے بڑے بڑے گھر بنانے کے اپنے آبائی وطن میں چھوٹی انڈسٹریاں لگانے پر زوردیں۔ سپاہ سالار کا اورز سیز پاکستانیوں کو یہ مشہورہ پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ کہ بڑے گھر کا کیا فائدہ جبکہ اگر وہ ہی کوئی چھوٹی یا بڑی فیکڑی ، کارخانہ ، انڈسٹری وغیرہ کچھ بنائیں گے تو پاکستانیوں کو روزگار بھی ملے گا اور اورسیز کو بھی فائدہ ہوگا ۔۔ یعنی دونوں کو فائدہ ہوگا ، اور پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہوگی ۔۔ اب پاکستان کے حالات بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی خاطر کچھ کرنا چاہیے تب ہی دوسرے ممالک سرمایہ کاری کریں گے ۔۔ اور پاکستان مضبوط و مستحکم ہوگا ۔ ۔ اورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ باحثے فخر بات بھی ہے کہ انھیں پاکستان کی پہلے دعوت دی جارہی ہے ۔ کہ وہ پاکستان کے بارے میں سوچیں اور پاکستانی بھائیوں کے بارے میں سوچیں اپنے ملک میں سرمایہ کاری کر کے فائدہ حاصل کریں اس سے پہلے کہ بیرون ممالک کی بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری شروع کریں ۔۔ جو پہلے آتا ہے وہ اپنی پسند کی جگہ اور سستے دامو اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے ۔۔ 









0 comments: