کلبھوشن یادو اور عالمی عدالت انصاف

0


کلبھوشن یادو اور عالمی عدالت انصاف

بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کے سینئر اہلکار بھارتی بحریہ کے حاظر سروس افیسر کمانڈر کلبھوشن یادو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے مارچ 2016 میں گرفتار ہوا ۔ اس سے قبل 10 جون 2015 کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی پارلیمان کے فلور پہ ببانگ دہل اعتراف کیا تھا کہ1971 میں انہوں نے بذات خود بنگالی گوریلا تنظیم مکتی باہینی جس کی تربیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے کی تھی کے شانہ بشانہ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس اعتراف کے بعد نریندرمودی نے بھارت کے قومی دن کے موقع پہ دہلی کے لال قلعہ کی فصیل پہ کھڑے ہو کر پاکستان کو للکارا تھا کہ بھارت بلوچستان، گلگت ، بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کو آزادی دلاکر رہے گا۔

ان اعترافات کے بعد کمانڈر کلبھوشن یادو کی گرفتاری نے بھارت کی گھنائونی سازش کا پر دہ فاش کردیا۔ کمانڈرکلبھوشن یادو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ بھی تھا ۔یادو نے حکومت پاکستان کے مقرر کردہ مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ اسے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کراچی میں انتشارپھیلانے کی خاطر پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔ یادو نے بتایا کہ کراچی میں صفورا گوٹھ میں بس دھما کے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ داعش نے اس ہو لناک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں45معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔ یادو نے بلوچستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس نے بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرکے بغاوت پہ اکسایا، انہیں گوریلا جنگ اور دہشت گرد حملوں کی تربیت دینے کے علاوہ اسلحہ، بارود اور رقم فراہم کی۔ یادو نے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں ڈیرہ جمایا ہوا تھا جہاں سے وہ سرحد پار کرکے پاکستان میں تخریب کاری کے جال کووسعت دے رہا تھا۔کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد ایک برس تک پاکستان نے اس کے خلاف تمام ثبوت اکھٹا کرکے اس پہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلایا۔ پاکستان آرمی ایکٹ1952 کے تحت کمانڈر یادوکو اپنے دفاع کے لئے وکیل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ماہ کے مقدمہ کی سماعت کے بعد فاضل عدالت نے کمانڈر یادو کو جاسوسی ،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش اور چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کے الزامات میں ان تمام جرائم کا مرتکب پایا اور انہیں سزائے موت سنائی۔ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کو سزائے موت سنانے کے بعد پورے بھارت میں کہرام مچ گیا۔ بھارتی میڈیا نے اشتعال انگیز پروگرام نشر کرنا شروع کئے جبکہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشز عبداالباسط کو بھارت کی وزارت خارجہ نے دھمکی دی کہ اگر کلبھوشن یادو کی سزائے موت پہ عمل درآمد ہوتا ہے تو پاکستان کو ہولناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔عبدالباسط نے بھارتی وزارت خارجہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ’’ آپ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی خاطر جاسوس اور دہشت گرد روانہ کرتے ہیں۔ہم انہیں گرفتارکرکے مقدمہ سناتے ہیں تو آپ اعتراض کرتے ہیں‘‘۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کلبھوشن کو دھرتی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے راجیا سبھا میں پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ آنے والے وقت کیلئے تیار رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پاکستان کی سرزمین سے گرفتار ہوئے، کچھ کو سزائے موت سنائی گئی اور کچھ کو لمبی قید لیکن بھارت نے کبھی اتنا واویلا نہیں مچایا تھا جتنا کمانڈر یادو کی سزائے موت پہ مچایا جارہاہے۔ راء کی جانب سے پاکستان بھیجے گئے جاسوس سربجیت سنگھ کو گرفتار کرکے دو دہشت گرد حملوں میں ملوث پایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی35برس قید کاٹنے کے بعد سر بجیت سنگھ کو جیل میں ہنگاموں کے دوران زخمی کردیا گیا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر سربجیت چل بسا۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ نے بدلہ لینے کی خاطر بھارت کے جیل میں قید ایک پاکستانی قیدی کو ذدوکوب کرکے ہلاک کرڈالا۔
کشمیر سنگھ بھی راء کا جاسوس تھا جسے پاکستان سے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ کشمیر سنگھ35برس تک پاکستان میں قیدرہا جسکے دوران وہ انکار کرتا رہا کہ وہ بھارتی جاسوس ہے۔ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کشمیر سنگھ کی رحم کی اپیل کے جواب میں اسے رہا کردیا لیکن بھارت کی سرحد میں قدم رکھتے ہی کشمیر سنگھ نے پاکستان کا منہ چڑایا کہ وہ راء کا ایجنٹ تھا اور بھارت کی خاطر پاکستان کے خلاف جاسوسی کرتا رہا۔
رویندا کو شک بنی احمد شاکر کے روپ میں پاک فوج میں شامل ہوا اور میجر کے رتبے پہ پہنچا جسکے دوران وہ پاکستان کے حساس مقامات سے متعلق تفصیلات بھارت کو ارسال کرتا رہا۔ وہ اس وقت گرفتار ہوا جب ایک اور بھارتی جاسوس نے پاکستان میں گرفتاری کے بعد اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ رام راج، سرجیت سنگھ ، گربخش رام، ونود ساتھی، شیخ شمیم چند ایسے نام ہیں جو راء کے بھیجے ہوئے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان میں گرفتار کئے گئے اور سزا کے مرتکب ٹھہرے۔

بھارت لاکھ شور مچائے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو پہلی مرتبہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا ثبوت حاصل ہوا ہے اور بھارت کو ناکوںچنے چبوانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا اور کمانڈر کلبھوشن یادو کو تختہ ء دار پہ لٹکا کر پاکستان کے دشمنوں کو واضح سبق دینا ہوگا کہ اگر کوئی پاکستان کی سا لمیت کو ٹھیس پہنچائے گا تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گئی۔

عالمی عدالت میں جانا مودی سرکار کی سب سے بڑی غلطی ہے ۔ پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت کو بتا چکا ہے کہ اس کے دفاعی معاملات عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔پاکستان عدالت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی جے پاکستان سے اپنے فائنل آرڈر کو منوانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

پاکستان پہلے ہی عالمی عدالت کو بتا چکا ہے کہ اس کے دفاعی معاملات عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔پاکستان
عدالت کے فیصلوں کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی جے پاکستان سے اپنے فائنل آرڈر کو منوانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس بھارت کے شہری کلبھوشن یادو کو پاکستانی فوجی عدالت نے پاکستان کے خلاف سازش رچانے ، ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے ،خون خرابہ کرنے ، عدم استحکام پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا جس پر بھارت نے عالمی عدات کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے شہری کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پر الزام لگایا کہ کلبھوشن یادو کو کراچی میں نہیں بلکہ ایران میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اپنی گرفت میں لینے کے بعد کراچی پہنچا کر اسے ملک دشمن سرگرمیوں میں پھنسا کر فوجی عدالت کے ذریعے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔ بھارت نے اپنے شہری کو بچانے کیلئے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں عرضی دائر کی اور انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے پاکستان کو سزائے موت پر روک لگانے اور عالمی عدالت میں کیس کی نئے سرے سے سماعت شروع کرنے کے بارے میں آگاہ کیا ۔ بھارت پاکستان کے قانونی ماہرین انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں حاضر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے رکھے ۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتعار اوسہ نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوجی عدالت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں ملک کے جاسوس کو جب پکڑا جا تا ہے تو اسے تحقیقات کے زمرے میں لایا جا تا ہے اور جرم ثابت ہونے کے بعد ہر ایک ملک کے آئین کے تحت اس ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی عمل میں لائے ۔ اٹارنی جنرل نے کلبھوشن یادو کو پاکستان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملزم نے ملک میں خون خرابہ کرنے ، ملک کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے سازش رچائی تھی اور پاکستان نے اپنے آئین کے تحت اسے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔

پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے یا پھر اسے خود پتا نہیں ہے کہ وہ ایسے کیوں بہتی ہے ؟ تو شاید زیادہ مناسب ہوگا ۔۔ سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان تھا کہ ہم نے کلبھوشن کے لیے وکیل بھیجا ہے اس بات نے ساری کہانی عیاں کردی ہے کہ پاکستان میں آخر چل کیا رہا ہے ؟ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ٹوئیٹ سے جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے ۔ کلبھوشن کیس میں فوج نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا اور اس نے اعتراف جرم کیا بھی ۔۔ معذرت کے ساتھ شاید مجھے صحیح علم نہیں کہ کلبھوشن شاید جمہوریت بچانے آیا ہوا تھا پاکستان میں فوج کو غلط فہمی ہوئی جو اس نے پکڑ لیا ۔۔ اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب حکومت نے کلبھوشن کیس کو گمنام کرنے کی کوشش کی تو تب فوج نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ ملک دشمن کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکتے ۔۔

دوسرا یہ کہ کلبھوشن ایک دہشت گرد ہے مگر حکومت کی نااہلی کی وجہ سے وہ عالمی دنیا میں ایک ہیرو بنتا جارہا ہے تاریخ کی کتابوں میں اسکی مثالیں بھی شامل ہوجائیں گی کہ کیسے اتنے عرصے تک کلبھوشن اپنا کام دشمن ملک میں بڑی کامیابی سے سرانجام دیتا رہا اور اس میں اس دشمن ملک کی جمہوریت نے اس کا بہت ساتھ دیا

کلبھوشن کی گرفتاری عین اس دن ظاہر کی گئی جس دن ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر تھے ۔۔ نواز شریف نے تب بھی کیس کو ایرانی صدر کے سامنے نہیں رکھا اور اپنی جمہوریت بچاتے رہے ۔۔ اس بات پر پاکستان میں موجود جاپانی آفیشل نے بھی حیرانی ظاہر کی تھی کہ کیوں بھارت اور ایران سے اس بارے میں بات نہیں کی گئی ۔۔ کلبھوشن ایک بڑی گرفتاری ہے مگر حکومت نے دنیا کے سامنے سچائی رکھنے کے بجائے اپنی جمہوریت بچانے میں ہی آفیت سمجھی ۔۔ کلبھوشن کی گرفتاری کے پانچ ماہ بعد اقوام عالم کا اجلاس ہوا جس میں نوازشریف کے پاس اقوام عالم کے سامنے کلبھوشن کیس رکھنے کا سنہرا موقعہ تھا مگر وہاں بھی نواز شریف صاحب نے جمہوریت بچائی اور چپ کر کے نکل لیے ۔۔

اسکے بعد نوازشریف نے کئی ممالک کے سرکاری و غیرسرکاری دورے کیے مگر مجال ہے جو کلبھوشن کا نام بھی کہیں لیا ہو ۔۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے تو انعام بھی رکھا دیا تھا کہ ’’ نواز شریف صرف کلبھوشن کا نام لے کر دیکھائیں ‘‘ ۔۔ پھر 29 مارچ کو نواز شریف نے خاموشی سے عالمی عدالت انصاف کی ثالثی تسلیم کر لی ۔ 10 مارچ کو فوجی عدالت نے فوجی قائدے قانون کے حساب سے کلبھوشن کو سزائے موت کی سزا سنائی ۔۔ جس کے بعد بھارت نے بہت شور مچایا مگر نوازشریف جواب دینے کے بجائے جمہوریت بچاتے رہے ۔۔ 11 مئی کو سجن جندال سے مری میں خفیہ ملاقات ہوئی جس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں ۔۔ مگر اس ملاقات کے فوراََ بعد افغانستان اور ہندوستان سے ایک وقت میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ۔۔ احسان اللہ احسان کا بھارت کے خلاف انٹرویو روک دیا گیا ۔۔

عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے مسئلے میں نہ پڑے اور کلبھوشن کو پھانسی کی سزا ہونے دے ۔۔ عالمی عدالت انصاف اگر ہزاروں معصوم شہریوں کے قاتل کو کچھ نہیں کہتی تو یہ عالمی عدالت انصاف کے انصاف پر ایک بہت بڑا دہبہ ہوگا ۔۔ ویسے بھی عالمی عدالت انصاف جنگی قیدیوں کے بارے میں کیس کی سماعت کرسکتی ہے جاسوسی کرنے والے اور دہشت گردی کرنے والے مجرم کے بارے میں نہیں ۔۔ کیونکہ قانون کے مطابق جہاں جو جاسوس یا دہشت گرد پکڑا جاتا ہے وہاں اسکے کے ساتھ وہاں کے ملکی قانون کے مطابق اسے سزا دی جاتی ہے ۔۔ اگر عالمی عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسکو کلبھوشن کیس میں تاخیر نہیں ہونے دینی چاہیے ۔۔ مجرم کا جو ساتھ دیتا ہے وہ بھی برابر کا شریک جرم ہوتا ہے ۔۔ عالمی عدالت انصاف سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا ۔۔ اسے چاہتے کہ وہ پاک افواج کی عدالت کے فیصلے کو درست فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے کلبھوشن کو نشان عبرت بنانے کا حکم دے تاکہ کوئی بھی کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو تباہ و برباد نہ کرسکے ۔۔

0 comments: