ٹوئیٹ کا محاذ

0


ملکی سلامتی کیلئے حساس قرار دیا جانیوالا ’’نیوز لیکس‘‘ کا معاملہ 6اکتوبر 2016ء کی اشاعت میں شائع شدہ ایک رپورٹ سے شروع ہوا جس میں وزیراعظم ہائوس میں منعقدہ سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس کے حوالے سے بعض ایسی باتیں لکھی گئیں جن کا انتہائی حساس معاملات سے براہ راست تعلق بنتا ہے۔ سول اور عسکری اداروں نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا مگر یہ سوال اہمیت کا حامل تھا کہ جس مقام پر ملکی، قومی اور بین الاقوامی نوعیت کے اہم امور زیر غور لائے جاتے ہیں وہاں ہونے والی کسی گفتگو کے بارے میں صحیح یا غلط باتیں کس طرح باہر آکر میڈیا کے ذریعہ پھیل جاتی ہیں۔ یہ سوال اس بنا پر بھی سنگینی کا حامل تھا کہ افشا کی گئی خبر سے اہم قومی اداروں میں اختلاف کا تاثر اجاگر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں قومی اداروں کے درمیان آرا کا اختلاف ہوتا رہتا ہے جنہیں مشاورت اور بحث و تمحیص کے ذریعے کسی متفقہ فیصلے کی طرف لے جایا جاتا ہے مگر شائع شدہ خبر کے مواد سے بادی النظر میں ان قوتوں کو تقویت ملی جو پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کے دفتر میں کوئی ”گھس بیٹھیا“ موجود ہے جو پاک فوج کو میڈیا میں جھوٹی کہانیاں چھپواکر بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔اس گھس بیٹھیے کی نشان دہی کے لئے ایک اعلیٰ سطح کمیشن قائم ہوا۔اس کمیشن میں تحقیق وتفتیش کے عمل کو جدید ترین سائنسی ذرائع کے ذریعے یقینی بنانے والے تین ”حساس اداروں“ کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ مگر ”گھس بیٹھیوں“ کی نشان دہی اب بھی نہیں ہوپائی۔ اب دیکھنا ہے کہ ڈان لیکس کا ’’اونٹ ‘‘ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟


2016ء میں ڈان میں سیرل المیڈا کی خبر شائع ہونے پر ایک انکوائری کی گئی اور انکوائری کرنے والوں نے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور پی آئی او رائو تحسین کے خلاف اس الزام میں کارروائی کی سفارش کی کہ ان دونوں نے خبر کیوں نہ رکوائی؟ اس خبر کی اشاعت پر طارق فاطمی، پرویز رشید اور رائو تحسین کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ یہ خبر لیک کس نے کی؟ وزیر اعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس خبر کا سورس کون تھا لیکن اُنہوں نے اصل سورس کے بارے میں خاموشی اختیار کر کے تین افراد کی قربانی دے ڈالی۔ مگر بے مقصد قربانیوں کا فائدہ نہیں پاکستانی عوام اب دوست اور دشمن سب جانتی ہے لہذا وزیراعظم صاحب کو چاہیے کہ اصل مجرم کو بے نقاب کریں تاکہ اسکے خلاف ملکی سیکیورٹی صورتحال لیک کرنے کا کیس چلایا جائے اور اس کو انجام عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ملک کی سیکیورٹی کی باتیں لیک کرنے کا ناسوچے ۔۔ وزیراعظم صاحب کو بادشاہ سلامت بننے کا بہت شوق ہے مگر وہ شاید انھیں معلوم نہیں کہ بادشاہ سلامت ملک کو بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے ۔بھارتی فوج نہیں جناب پاکستان کی مسلح افواج ان کا ہدف ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب غلط، چیف جسٹس باطل 'دو صدور واجب القتل اور ہمیشہ نواز شریف حق پر ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

کسی بھی نوعیت کی خبر کو ساری دنیا میں پھیلانے میں سوشل میڈیا سب سے آگے ہے ، صرف چند سیکنڈ میں دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگ اس خبر سے باخبر ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا کی ایک Appsہے جس کو Twitterکہا جاتا ہے ، اس کا پلڑہ ، خبر پھیلانے کے معاملے میں سب سے بھاری ہے ، ایک عرصہ تک بلاول بھٹو زرداری کی سیاست کا مکمل دارومدار اسی Appsکو استعمال کرنے پر منحصر رہا تھا ، بڑے میاں صاحب کی خیریت دریافت کرنا مقصود ہو یا Youngerشریف کو انکے کامیاب طرز حکمرانی پر شاباش دینا اسی Appsکے استعمال (Tweets) کے ذریعے اپنے دل کی بات من وعن ان تک پہنچائی جاتی ہے ، بلاول اکثر و بیشتر اپنے غصے کا اظہار بھی ٹویٹ کے ذریعے ہی کرتے رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ لندن میںمقیم انکل الطاف (ایم کیو ایم لندن والے) کے حال دل تک رسائی بھی Tweetsکے ذریعے ہی ہوتی رہی ہے ۔ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس Appsکو زیر استعمال رکھنے میں کسی سے پیچھے نہیں ، Youngerشریف ، عمران خان کو اسی Appsکے ذریعے آڑے ہاتھوںلیتے ہیں ، حال ہی میں مریم صاحبہ نے اپنے والد گرامی کو PSL 2کے فائنل کے پاکستان میںکامیاب انعقاد پر تاریخی مبارکباد بھی ایک ٹویٹکے ذریعے گوش گزار کی تھی ، خان صاحب بھی کبھی کبھار ٹویٹ کی پچ پر بائونسر مارتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ بدلتے دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ، سیاسی کمپیئن کو عوام تک پہنچانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے ۔ آئی آیس پی آر بھی کئی سالوں سے پریس رلیز ٹویٹ کے ذریعے بھی جاری کرتا آ رہا ہے ۔ یعنی فوج کی طرف سے عوام تک بات بھی ٹیوٹر کے ذریعے ہی پہنچائی جاتی ہے ۔ ڈان لیکس یا نیوز لیکس کی رپورٹ کے سامنے آجانے کے ٹھیک ایک گھنٹہ بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کے Officialٹویٹ کے ذریعے اس تحقیقاتی رپورٹ کو قطعی طور پرمسترد کر دیا ۔ ڈان لیکس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ پوری فوج کی ترجمانی کرتے ہوئے آرمی چیف کی طرف سے ان سے تصدیق اور مرضی کے بعد کی گئی

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈی۔جی میجر جنرل آصف غفور کی ڈان لیکس کے متعلق ٹویٹ پر کچھ لوگ فضول بحث کر رہے ہیں ۔۔ کچھ لوگ انکے خلاف اور پاک فوج کے خلاف پراپیگینڈا کرتے نظر آرہے ہیں ۔ جس سے وہ مجرم بن رہے ہیں ۔ کیونکہ کہ فوج نے آفیشل یعنی سرکاری طور پر بیان دیا تھا ۔ کسی کو جمہوریت خطرے میں نظر آ رہی ہے تو کوئی اس کا خیرمقدم کر رہا ہے۔

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹویٹ جلدبازی میں یا جذباتی ہو کر کی گئی ہے تو معذرت کے ساتھ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ پاک فوج ایک ذمہ دار ترین ادارہ ہے۔ اس کا ہر شعبہ مخصوص نظم و ضبط کا پابند ہے جس سے روگردانی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ خصوصاً شعبہ تعلقاتِ عامہ کو انتہائی ذمہ داری سے چلایا جاتا ہے تا کہ پاک افواج کے متعلق عوام میں بہتر رائے قائم رہے۔ جو کہ کسی بھی ملک کی فوج کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس صورت حال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستان کے بہترین ادارے کے ذمہ دارترین شعبہ کا اعلی ترین افسر بلا سوچے سمجھے اس طرح کی ٹویٹ کر کے کسی حکومتی اقدام کو چیلنج کرے۔ اگر صرف تحفظات ظاہر کرنا ہوتے یا ڈکٹیشن ہی دینا مقصود ہوتی تو اس کے لیے دیگر بہت سے ذرائع تھے۔ کھلے عام پبلک میں ایسی ٹویٹ کا مقصد دراصل ڈان لیکس کو زیر بحث لانا ۔ آرمی کی سربراہی میں جے۔آئی۔ٹی میں تحقیقات صاف شفاف ہوں گی ۔ جنرل راحیل شریف کی طرح قمر جاوید باجوہ صاحب بھی بہادر جری سپاہ سالار ہیں اندرونی یا بیرونی ہر طرح کی سازش کو ناکام بنائیں گے ۔۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم، جندال ملاقات کلبھوشن کو پھانسی اور احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب معاملات اس وقت سیاسی منظر نامے سے غائب کرنے کے لیے مریم نواز کا میڈیا سیل پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے ۔۔ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف ٹیوٹر پر ٹرینڈ بھی چلایا گیا مگر شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کوئی بات خود اپنی ذاتی رائے سے نہیں کرتے بلکہ پوری پاک فوج کی ترجمانی کرتے ہوئے آرمی چیف کی اجازت اور مرضی سے سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ۔۔ درجہ بالا نکات کو گہرائی سے پرکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے وہ کام جو وزیر اعظم کی پریس کانفرنسیں اور آرمی چیف کے ساتھ ملاقاتیں نہیں کر سکتی تھیں وہ ایک ٹویٹ نے کر دیا ہے ۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ اور اس کے بعد ملک کے سیاستدانوں، مبصروں اور تجزیہ کاروں کے تبصروں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ کہ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ پر سیاسی پارٹیوں نے جو موقف اختیار کیا ہے، وہ ملک میں کسی اصول کی بنیاد پر نظام استوار کرنے کی خواہش سے زیادہ ہوس اقتدار کا آئینہ دار ہے۔ فوج جوایک منظم ادارہ ہے اور اس کا ہر فیصلہ سوچا سمجھا اور صورتحال کے مطابق نپا تلا ہوتا ہے، اگر سیاستدانوں کی سیاسی ضرورتوں اور لالچ کے تحت کئے جانے والے تبصروں کو نظر انداز کر دیا جائے اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے عام لوگوں کے تبصروں کو ہی دیکھا جائے تو رائے کی اکثریت سیاستدانوں کو مسترد اور فوج کی تحسین کرتی نظر آتی ہے کیونکہ فوج عوام کے جذبات کی ہی ترجمانی کر رہی ہے ۔۔ فوج کا موقف بالکل درست ہے ۔ فوج ملک کی حفاظت اور سلامتی میں دلچسپی رکھنے والا واحد ادارہ ہے ۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ فوج ٹیک اورر کرنا چاہتی ہے تو جناب جب سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے تین سالہ دور میں ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ جیسے بینر بار بار شہروں کی سڑکوں پر آویزاں ہوتے رہے تھے تب فوج نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی کرنا چاہتی ہے بس فوج عوام کو انصاف دلوانا چاہتی ہے ۔۔ فوج کبھی غلطی نہیں کرتی بلکہ وہ تو ملک و قوم کے نام پر جان قربان کرنے والوں پر مشتمل ہے ۔

سجن جندال سے چھپ کر ملاقات کا کیا مقصد ؟ چھپ کر ملک دشمن سے ملنا ذاتی تعلقات نہیں بلکہ ناجائز تعلقات یا سازش کہلاتا ہے ۔۔ فوج میں سربراہ یا قیادت سمبھالنے کے لیے تیس پینتیس سال فوج میں مختلف اہم عہدوں پر رہ کر تجربہ اور حالات کنڑول کرنا سیکھنے کے بعد ہی بنتا ہے ۔۔ جیلوں میں رہ کر اور قتل عام کروا کر نہیں ۔۔ چوہدری نثار بتانا پسند کرینگے کہ مریم نواز نے پاکستان کے کونسے آئین پر عمل کرتے ہوئے اور کس عہدے کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا ؟ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹوئیٹ کا مقصد پریس رلیز جاری کرنا ہے نہ کہ ذاتی یا غیر سرکاری ٹوئیٹ کرنا ہے ۔۔ کیونکہ انھوں نے آفشل ڈی جی آئی ایس پی آر کے اکاؤنٹ سے کی ۔ اگر وہ اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کرتے تو وہ انکی رائے ہوتی جبکہ یہ پوری فوج کی رائے ہے ۔ مریم نواز کے میڈیا سیل والے ہی ڈان لیکس پر فوج کو طعنے دیتے تھے اور جب ڈان لیک پر فوج نے کچھ کہا تو مرچیں کیوں لگ رہی ہیں ۔۔ ان تمام لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں جن کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹوئیٹ غیر آئینی لگ رہی ہے ۔ آئی ایس پی آر پاک فوج کا ترجمان ادارہ ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹوئیٹ ادارے کے موقف پر مشتعمل تھی ۔ آئین پاک فوج کو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے اختیارات دیتا ہے جس کے تحت نیشنل سیکیورٹی بریچ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔۔ ڈان لیکس پر اچھلنے والے سب خارشی جھاگ کی طرح کیوں بیٹھ گئے ۔ مک مکا کا نعرا لگانے والے میرے صحافی دوستوں اور اپوزیشن لیڈروں کو ڈوب مرنا چاہئے

رہا سوال 21 گریڈ کا افسر وزیراعظم کی رپورٹ کو کیسے مسترد کر سکتا ہے ؟ تو وہ ایسے جناب کہ جیسے ایک 18 گریڈ کا جج وزیر اعظم کو چور قرار دے سکتا ہے ۔ یا پھر جیسے جج کے ساتھ بیٹھا ہوا 15 گریڈ کا کلرک وزیراعظم کی درخواست مسترد کرسکتا ہے ۔ یا جیسے ایک 12 گریڈ کا پولیس آفیسروزیراعظم پر ایف آئی آر کاٹ سکتا ہے ۔ جیسے ایک 8 گریڈ کا ٹریفک کانسٹیبل وزیراعظم کو جرمانہ کرسکتا ہے ۔ یا جیسے 7 گریڈ کا واپڈا ملازم وزیراعظم کی بجلی کا میڑلے کاٹ کر لے جاسکتا ہے مزید بہت سی مثالیں ہیں بلکل اسی طرح پاک فوج کا ایک 21 گریڈ کا افسر قومی سلامتی کے خلاف ہونے والے کسی بھی کام کو روک سکتا ہے ۔ آئین پاک فوج کو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے اختیارات دیتا ہے جنھیں اس وقت استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نیشنل سیکیورٹی بریچ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے ۔





0 comments: