یوم تکبیر

0



یوم تکبیر


پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے۔ اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ قوم کی بے چینی، اضطرابی ،ہاراورجیت،زندگی اور موت کی کشمکش نے دم توڑا ۔ سورج ڈھلنے سے پہلے دنیا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں کو پیلے زرد رنگوں میں نکھرتے ،بکھرتے اور اُڑتے دیکھ رہی تھی اور فضاتکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی تھی ۔۔
28مئی یوم تکبیرکے طور پر پاکستان میں منایا جاتا ہے اور 14اگست 1947ء کے بعد یہ دوسرا قومی دن ہے کیونکہ 14اگست کو پاکستان بنا تھا اور 28مئی کوپاکستان نے اپنی بقا کی جنگ جیتی تھی۔یہ دونوں دن پاکستان کے سب سے تاریخی اور اہمیت کے حامل ہیں۔ جس ے پاکستان بنا یااس کے بانی قائد اعظم ہیں اور اس تاریخ ساز دن کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں ۔۔ امریکہ اور دیگر بڑے ممالک نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بڑی کوشش کی مگر انھیں پتا نہیں ہے کہ جب غیرت اور عزت کی بات آئے تو پاکستان کو خریدا نہیں جا سکتا ۔ 28 مئی 1998 کے روز سہ پہر 3بج کر16 منٹ پر چاغی میں ایک بٹن دبا کر پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا ۔۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وطن عزیز کو ناقابل تسخیر بنانے کا یہ دلیرانہ قدم اْٹھا کر مسلم ممالک کو بھی راہ دکھائی کہ وہ بھی ایک تاریخ ساز قدم اْٹھا کر دنیا میں فخر سے سر بلند کر لیں۔ یہ پاکستانی قوم کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کودشمنِ وطن کے سامنے سپر پاوربنادیا ۔ ۔پاکستان میں امریکی وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات منوا لی مگر پاک افواج نے نوازشریف کی ایک نہ سنی اور دھماکے کر کے کہا کہ اب چاہو تو اپنا سیاسی مستقبل بنا لو اور چاہو تو ہم قوم کواگاہ رکردیتے ہیں کہ دھماکوں میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں ۔۔ مجبوراََ نواز شریف کو بیان دینا پڑا ۔۔ یہی بات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’فیصلہ عوام کا‘‘ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔
آج جب پاکستان میں یوم تکبیرکے دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے مگرعوام کو یہ دن مناتے ہوئے کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ کے آگے جھکنے پر مجبورہیں ۔ امریکہ کھلم کھلا ہمارے قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔۔ یہی بات ہے کہ ہمارے حکمران سیاست دان صرف اور صرف پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں انھیں پاک افواج کا ڈر نہ ہوتا تو یہ ابتک پاکستان کو بیچ کر کھا چکے ہوتے ۔۔۔

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ” اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے” (سورۃ انفال )اللہ تعالی کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ایٹمی ملک بننے کا فیصلہ کیا جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اس وقت پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارت نے 11مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کردیئے تھے ۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کر دی تھی۔ اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا۔ایسا کیوں نا ہوتا ؟ بھارت نے چند دن قبل ایک ساتھ 5 ایٹمی دھماکے کیے تھے ،اور پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بنا ۔اس وجہ سے اس نے ہر محاذ پر پاکستان کو دبانا شروع کر دیا ۔ نواز شریف بھی پریشان تھے کہ کیا کریں قوم کو کیا جواب دیں اسی اثنا میں پاک افواج نے وہ کر دیکھایا کہ جس سے دنیا میں پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ۔۔


اس عظیم کارنامے کا سہرا سب سے بڑھ کر پاکستانی عوام ،ذولفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ڈاکٹر ثمرمبارک مند اور ان کے سینکڑوں دیگر ساتھیوں کو جاتا ہے ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو پاکستان پر امریکہ نے پابندی لگا دی کیونکہ پاکستان نے مسلم ملک ہو کر اتنی ہمت کیسے کی کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کر لی ۔پاکستان کے دشمنوں کے ہاں اس دن صف ماتم بچھی ہوئی تھی، دوسری طرف مسلم ممالک خوشیوں سے نہال تھے ۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہی حال دیگر مسلم ممالک کا تھا ۔ایٹم بم بنانے میں بھی مسلم ممالک نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔

’’اگر ہندوستان ایٹم بم بناتا ہے تو ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے رہ لیں گے لیکن اپنا ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘‘
یہ تاریخی الفاظ اس وقت کے وزیر خارجہ، جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں مانچسٹر گارجیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔ اگرچہ قیام پاکستان کے فوراً بعد دوسرے درپیش مسائل کے پیش نظر کسی کو اس طرف دھیان دینے کا موقع نہ ملا، لیکن بھارت 1954ء سے ہی ’’ہومی بھابھا‘‘ کی سربراہی میں اپنا نیوکلیائی تحقیقی پروگرام شروع کرچکا تھا۔ 1954ء میں اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم، مشہور زمانہ ایٹمی سائنسدان نیلز بوہر سے ملنے کوپن ہیگن بھی گئے۔ جناب ذولفقار علی بھٹو نے 1966ء میں تجدید اسلحہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے ایٹم بم بنا لیا تو چاہے ہمیں گھاس کھانا پڑے ، ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے، ایٹم بم بنانے کے لیے ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ کا چارج، انہوں نے 31 دسمبر 1971ء کو خود سنبھالا ۔ فرانس سے ری پراسیسنگ پلانٹ کی خرید کے معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ 300 ملین ڈالر کے اس منصوبے کے لئے سرمائے کا حصول تھا۔ لیبیا‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت اور عراق وغیرہ نے بھرپور مالی تعاون کیا ۔جس کی بدولت پاکستان ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے قابل ہوا ۔


پاکستان 1986ء تک ا یٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، 11مئی8 199ء کو بھارت نے راجستھان کے صحرا پوکھران میں ایک بار پھر 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں امن کے تواز ن کو بگاڑ دیا، اس کے کئی دن بعد تک جب پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو عالمی سطح پر یہ تاثر جنم لینے لگا کہ پاکستان کے پاس شائد ایٹم بم ہے ہی نہیں ،یہاں تک کے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی کھو کھلی دھمکیاں سب کے سامنے آچکی ہیں ،پاکستان کے پاس نہ کوئی ایٹم بم ہے اور نہ کوئی دھماکہ کرے گا ۔لیکن دوسری طرف حکومت میں موجود کچھ لوگوں کاخیال تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دئیے تو عالمی برادری پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جس کے ملکی معیشت پر بہت برے اثرات پڑیں گے،اس کے علاوہ امریکا بھی پاکستان پر کافی دباؤ ڈالے ہوئے تھا اور پاکستان کی حکومت کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ لالچ بھی دے رہا تھا ۔ ۔


پاکستان کے کامیاب جوہری تجربات کے بعد پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلندیوں کو چھونے لگا ،ان تجربات نے ارض وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیااور بھارتی حکمرانوں کا اکھنڈ بھارت کا خواب ہمیشہ کیلئے چکنا چور کر دیا جو اپنے ایٹمی دھماکوں کے بعد اپنی اوقات سے بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہا تھا اور کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا ، پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف بھارت کا غرور مٹی میں ملا دیا بلکہ بھارت کو یہ باور بھی کروا دیا کے ہم سو نہیں رہے ہم ارض وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔۔

جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے اس وقت بھارت میں بی جی پی کی حکومت تھی ۔۔ BJP کا شکریہ کا اس نے پاکستان کی اس طرف توجہ دلائی کہ اب پاکستان کو ایٹمی پاور بن کر ابھرنا چاہیے ۔۔ اور پاکستان نے بھی اسلئیے ایٹم بم بنائے کہ ایٹم بم کسی بھی جنگ سے بچنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔۔ پاکستان نے ایٹمی اثاثے محفوظ کرنے کے لیے بہت محنت کی ہے ۔۔ تاکہ بھارت کی طرح پاکستان کے ایٹم کا کوئی غلط استعمال نہ کرسکے ۔۔ جبکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے ۔۔

قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب ایک صحیح فیصلہ اس کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی وقت پاکستان کی تاریخ میں بھی 28 مئی 1998ء کو آیا جب ایک صحیح اور بروقت فیصلہ نے ایک ایسا معجزہ کردکھایا کہ دنیا حیران و ششدر رہ گئی ۔۔ ہر سال 28مئی کو چاغی میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں کی یاد میں ملک بھر میں ’’یوم تکبیر‘‘ منایا جاتا ہے اور تقریبات، جلسوں اور جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے یہ ایٹمی دھماکے اس وقت کیے جب اٹل بہاری واجپائی نے اپنی انتخابی مہم میں برملا اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ برسر اقتدار آنے کے بعد اکھنڈ بھارت بنانے کے لئے ہر حربہ اختیار کرینگے اور ایٹم بم گرانے پڑا تو بھی گریز نہیں کرینگے۔
واجپائی نے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے جارحانہ عزائم کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا اور 11مئی 1998 کو تین اور 13 مئی کو مزید دو دھماکے کرکے پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اپنے جارحانہ عزائم کو کسی بھی وقت عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کی یہ جارحیت پاکستان کی سالمیت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ پوری قوم کی یہ تمنا تھی کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے۔ چنانچہ پاکستانی سائنسدانوں نے عسکری اور سیاسی قیادت کے فیصلے پر چاغی کے مقام پر 28 مئی 1998 کو پانچ اور 30 مئی کو کھاران میں ایک وسیع صحرائی وادی میں پانچ ایٹمی دھماکا کرکے بھارت کی جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ایسے مواقع نظر سے گزرتے ہیں جن پر اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو انڈیا پاکستان کو کھا چکا ہوتا۔ قارئین کو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ سری لنکا ہو یا بنگلہ دیش، نیپال ہو یا بھوٹان حتیٰ کہ مالدیپ ان سب کو بھارت نے ایٹمی قوت بن کر اپنی طفیلی ریاستیں اس حد تک بنا رکھا ہے کہ بنگلہ دیش جیسا مسلمان ملک پاکستان اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنے کا اعلان کرکے بھارتی آنکھ کے اشارے پر یہ اعلان واپس لے لیتا ہے۔


جب سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن قائم ہوا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان ایٹمی بموں کی تعداد اور کوالٹی میں بھارت پر برتری اور پاکستان کے میزائلوں کے سو فیصد ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت نے بھارت کے مقابلے میں وطن عزیز کو محفوظ بنادیا ہے اور اس حد تک محفوظ بنادیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرسکے گا۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، کسی کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، پھر بھی اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے اسے بار بار جنگیں لڑنا پڑیں۔ پاکستان اپنے زیادہ سے زیادہ وسائل عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں خوراک، تعلیم اور علاج و معالجے سمیت زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر صرف کرنے کا شدت سے آرزو مند ہے مگر دہشتگردی اور بیرونی جارحیت کے خطرات کی موجودگی میں اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتا۔ مختلف اسباب کی بناء پر اس کی سلامتی کے لئے خطرات آج بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ آج بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی جدوجہد کررہا ہے۔

ایٹم بم کی تیاری کے ابتدائی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت حالات انتہائی نامساعد تھے کیونکہ اس قسم کے کام کی تعلیم اور ٹریننگ نہ تو کسی کالج اور یونیورسٹی میں دی جاتی ہے اور نہ ہی اس موضوع تک اسکے انتہائی خفیہ ہونے کی وجہ سے رسائی ممکن ہے۔
آج کل تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے جس سے کام کا کچھ نہ کچھ آئیڈیا ہوجاتا ہے لیکن آج سے اکتالیس سال پہلے یہ چیزیں دسترس سے باہر تھیں، حتیٰ کہ ایک تو فوٹو کاپی مشین تک نہیں تھی، ایک ٹوٹی پھوٹی فورڈ ویگن ٹرانسپورٹ تھی اور ایک تاریک اور بدبو دار کمرہ لیبارٹری تھا جس میں بیٹھنے کے لئے چار کرسیاں بھی پوری نہیں ہوتی تھیں۔
یہاں پر بیٹھ کر ایٹمی سائنسدانوں نے ایٹم بم بنایا تھا۔ لوگوں کو پاکستان اور اسکے ایٹم بم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کتنے مشکل حالات میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا ۔۔ پاکستان ایک پر ملک ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے ۔ پاکستان کا نیوکلئیر سسٹم مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔۔ پاکستان کو ایٹمی پاوربننے میں بلوچستان کی سرزمین کو وہ اعزاز حاسل ہے وہ کسی اور صوبے کی سرزمین کو حاصل نہیں ۔ 28مئی 1998پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے دھنک کی طرح رنگ بدلتے چاغی کے پہاڑنے ملت اسلامیہ نئی صُبح دی بلکہ بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے کی وارئنگ بھی دی ۔۔ گزشتہ برس پاکستان کے یورینیم نیوکلئیر چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا نیوکلئیر سسٹم غیر محفوظ جو نیوکلئیر جیسی قوت کو سمبھالنے سے قاصر ہے ۔ وہ دوسروں کی سلامتی کا کیا سبب بنے گا ۔۔


آج پاکستان کواٹیمی قوت بنے 19 سال کاعرصہ ہوگیاہے ۔ لیکن وہ معاشی میدان میں کوئی کارنامہ سر انجام نہ دے سکا ہے۔ بے روزگاری ،غربت،نا انصافی،کرپشن اس طرح کے سینکڑوں مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ہمارے لیڈر ایسے ہیں جوکہ صرف اپنے فائدے کی بات کی کرتے ہیں ۔پاکستان ابھی تک ترقی پذیر کیوں ہے؟ بجلی بحران اور دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا ؟ عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے ۔ پاکستانی عوام غفلت کی گہری نیندسوئی ہوئی ہے کہا جاتا ہے کہ ایک منظم سازش کے ساتھ ان کے مخالفین ان کو ایسی گولیاں دیتے رہتے ہیں جس سے یہ سوئی رہتی ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عوام کوجب تک لیڈراچھانہیں ملتا ہم ایک قوم نہیں بن سکتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں عوام ابھی بے شعور ہے اسے اچھے لیڈر کی پہچان نہیں ہے ۔اور دوسری بات یہ کہ دشمن کا کام سازش کرنا ہی ہوتا ہے اس پر سازش کا الزام لگانے کی بجائے اس سازش پر عمل کیوں کرتے ہیں ۔ جس مقصد کو سامنے رکھ کر عوام نے قربانیاں دیں تھیں ان میں سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوا ۔ ہماری شہ رگ کشمیر دشمن کے قبضے میں ہے, بھیک پر گزارہ ہے ،انصاف بکتا ہے, اپنی زبان تک ذہنی غلامی کی وجہ سے رائج نہ کر سکے ۔بجلی ایٹمی پاور سے پیدا نہ کر سکے ۔ یوم تکبیر صرف خوشی منانے تک رہ گیا ہے, اس ایٹمی پاور سے پاکستان بجلی کے مسائل کو حل کر سکتا ہے پھر بھی ایک عام آدمی تمام بنیادی ضروریات سے آج بھی محروم ہے اور جو نہیں ہے اسکو محروم کیا جا رہا ہے ۔ کوئی بھی دن منانے کا ایک بڑا مقصد ہوتا ہے اور یہ مقصد ہمارے عہد کو دوبارہ سے زندہ کرتاہوتا ہے ۔تجدید عہد کا دن ہوتا ہے ۔ یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ وہ یادگار لمحہ تھا جب دنیا کے تقر یباً 2ارب مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ۔

یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا‘ ان میں روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی سرفہرست ہیں اور یہ بات تاریخی شواہد کی بنیاد پر واشگاف الفاظ میں کہی جاسکتی ہے کہ اگر جناب مجید نظامی اس معاملے میں حکومت وقت سے قومی سربلندی کی خاطر ٹکرا جانے والی پالیسی پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین نہ کرتے تو عین ممکن تھا کہ بعض بڑے بڑے حاشیہ نشین اور چاپلوس صحافیوں کی ایک کھیپ مخصوص مفادات کے تحت پاکستان کی ذمہ دار قیادت کو ایٹمی دھماکے کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی مگر یہ مجید نظامی صاحب ہی تھے کہ جنہوں نے اس حوالے سے نوائے وقت کی جاری کردہ استحکام پاکستان تحریک کو نقطہ کمال عروج تک پہنچا دیا۔

نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی نے صحافی برادری کی نوازشریف سے ملاقات میں قومی امنگوں کی ترجمانی کی۔ انہوں نے صاف صاف لفظوں میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب! آپ ایٹمی دھماکہ کرو ادیںورنہ عوام آپ کا دھماکہ کر دیں گے۔ جناب مجید نظامی نے یہ بھی کہا کہ آپ ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو دوہری وارننگ کا سامنا ہے۔ اگر دھماکہ کرتے ہیں تو ممکن ہے امریکہ آپ کا دھماکہ کر دے مگر قومی اور ملکی سالمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ایٹمی دھماکہ کریں۔ ادھر افواج پاکستان بھی نواز شریف پر دباو تھا کہ دھماکہ کردیں مگر نواز جب نہیں مانے تو افواج نے ملک کی بقائ کا فیصلہ کرتے ہوئے دھماکہ کیا خیر اندر کی باتیں باہر بتانے کا میرا کوئی مقصد نہیں تھا مگر جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف صاحب کی وجہ سے پاکستان ایٹمی ملک بنا بس انھیں بتانے کی غرض تھی تا کہ قوم اپنے حقیقی محسن کو پہچانے اور فریب دینے والے کو دوبارہ تخت نشین نہیں تخت دار پر لٹکائے ۔خیر۔ 28 مئی 1998 ء کا دن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے باعث فخر دن تھاجب اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت اور امت مسلمہ کے ممالک کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔ پاکستان سمیت ترکی ،سعود ی عرب ، مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک ، افریقی مسلم ممالک ، انڈونیشیا حتیٰ کہ سوویت یونین سے الگ ہو کر آزاد مسلم ریاستوں کے لوگ بڑی آن شان سے یہی کہتے تھے کہ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ایسا ہی ہے جسے ہم خود ایٹمی قوت بن گئے ہیں، کیونکہ مسلمان عقیدے کے اعتبار سے ’’جسد واحد‘‘ ہیں۔ پاکستان نے اپنے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو 5دھماکوں کا جواب دے دیا تھا اور اب اسی لئے تو پاکستان کے دشمنوں کے ہاں ماتم بپا تھا۔ پاکستان پر امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں کہ تمہاری اتنی جرأت…؟ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ کسی کی یہ مجال اور وہ بھی کسی مسلمان کی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ خود کو ایٹمی قوت بنا اور کہلا سکے۔ ’’گستاخ‘‘ پر حد ادب لگ چکی تھی لیکن دوسری طرف عالم اسلام خوشیوں سے نہال تھا۔ ملت اسلامیہ پاکستان کا ہر طبقہ سجدۂ شکر ، نوافل اور ملی جذبات کا اظہار کر رہاتھا تو مشرقی بارڈر پر بھارت اور بھارتی فوج کے اوسان خطا ہو گئے۔ امریکہ بھی پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کو برداشت نہ کر سکا اور فوراً ہی پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی ، یورپی، بھارتی چینلوں نے پاکستان کے ایٹمی دھماکے کو اسلامی بم قرار دے دیا، حالانکہ پاکستان نے تو پہلے 6 ملکوں کے بعد ایٹمی دھماکے کئے ان چھ ممالک میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو کسی نے نہیں کہاکہ یہ عیسائی ایٹم بم ، روس کا کمیونزم بم ، اسرائیل کا یہودی بم ، بھارت کا ہندو بم ہیں، لیکن جب پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور ُ پر امن مقاصد کے لئے ایٹمی دھماکہ کیا تو اس کے ایٹم بم کو اسلامی بم قرار دے کر غیر مسلم سازش کر رہے تھے اور مسلمان سجدہ شکر ۔۔

امریکہ نے جاپان میں ہیروشیما، ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں جاپانیوں کو لقمۂ اجل بنا دیا اور آج وہ انسانی حقوق کا چمپئن بناہواہے، حالانکہ حقیقت میں انسانیت کا قاتل اور شیطانی حقوق کا چمپئن ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھاہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھاہے اور سیاچن پر بھی ناجائز تسلط جمائے ہوئے ہے۔ پوری دنیا میں امریکہ ، اسرائیل ، بھارت، روس اور یورپی ممالک نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کررکھاہے۔ مسلمان ممالک کی آزادی ، خود مختاری ، قومی سلامتی پر ہر طرح سے حملہ آور ہیں۔ افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے غاصبانہ قبضہ کیا اور کہتے ہیں کہ ہم تو افغانستان میں امن و استحکام کے لئے آئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں’’ نالے چور نالے چتر ‘‘۔ قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ دیا گیا، مگر پاکستانیوں نے کسی بے گناہ پر ظلم نہیں کیا صرف دفاع کیا ہے ۔۔ ماضی کی تلخیاں بھلا کر ہمیں پھر سے ایک ہو جاناچاہیے، ہمیں اس پاک سرزمین پر پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا۔ پاکستان کی بری ، بحری ، فضائی افواج نے پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جانوں کے نذرانے اس لئے پیش نہیں کیے تھے کہ یہاں بھارت کی بالادستی کے قصیدے سنائے جائیں۔ اسے بڑا ملک قرار دے کر ہمارے اوپر رعب جمایا جائے۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام ُ پرامن ، پاکستان سمیت دنیا کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ امریکہ بھارت انسانیت کے قاتل ہیں۔ پوری قوم 28مئی کو یوم تکبیر پر مساجد میں خصوصی نوافل میں ملکی سلامتی کے لئے دعائیں اور اپنے عسکری اداروں سے والہانہ محبت ، شہدا کے مزاروں پر فاتحہ خوانی اور قومی پرچم سے لبریز ریلیوں کا انعقاد کریں ۔ آج کے دن ہمارے سیاستدانوں کوبھی یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے ہر اقدام اٹھائیں گے ۔ پاکستان پائندہ باد ، افواج پاکستان اور اس کا ایٹمی پروگرام زندہ باد !!۔۔۔ قوم 28مئی کو یوم تکبیر کے طور پر منائے گی اورپاکستان کے دشمن یوم تکلیف کے طور پر کڑھتے رہیں گے۔ پاکستان کا دشمن ہی بے نام و نشان ہوگا ۔ انشاءاللہ !!

0 comments: